یو اے ای نے قرض کی مدت اور شرح سود پر مزید بات چیت صرف ایک ماہ کے لیے رول اوور کی ہے جس سے لگتا ہے کہ یو اے ای قرضوں پر شرح سود مزید بڑھانے اور پاکستان سے اپنی مزید شرائط منوانے کا خواہش مند ہو؟
گورنر اسٹیٹ بینک نے دسمبر میں یو اے ای سے عالمی شرح سود میں کمی کے باعث دو سال کے لیے تین فی صد شرح سود پر رول اوور مانگا تھا اور وزیر اعظم شہباز شریف نے یو اے ای کے صدر سے قرض واپسی کی مدت بڑھانے کی درخواست کی تھی جس کے جواب میں یو اے ای نے پہلی بار قرض صرف ایک ماہ کے لیے رول اوور کیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یو اے ای پاکستان کی درخواست پر غور کرے اور درخواست قبول کرکے شرح سود کم اور مدت وصولی قرض میں اضافہ کردے۔ یو اے ای ایک مسلم برادر ملک اور پاکستان کے ہمدرد دوست کی حیثیت سے جانا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر پاکستان کی مدد اور قرضے بھی دیتا آیا ہے۔
یو اے ای اسرائیل کو تسلیم کر چکا ہے اور گزشتہ ماہ یو اے ای کے صدر پاکستان کے دورے کے بعد بھارت بھی گئے تھے جہاں یو اے ای نے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی کیا ہے اور گزشتہ سالوں سے بھارت اور یو اے ای کے درمیان قربتیں بھی بڑھی ہیں۔ دبئی میں ایک نئے اور بڑے مندر کا افتتاح کرنے بھارتی وزیر اعظم خود دبئی گئے تھے جہاں ان کا زبردست استقبال ہوا تھا اور وہاں کے حکمران بھارتی وزیر اعظم کا استقبال کرتے ہیں کیونکہ بھارتی وزیر اعظم قرض مانگنے نہیں بھارت کے دیگر مفادات کے حصول کے لیے جاتے ہیں اور ہمارے حکمران پاکستان کے لیے قرضے لینے کے علاوہ اپنے ذاتی تعلقات مستحکم کرنے پر توجہ دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی سیاستدانوں اور ان کے صاحبزادوں کے یو اے ای میں کاروبار اور جائیدادیں ہیں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اعلیٰ عدلیہ نے دبئی میں ان کے بیٹے کی فرم سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا تھا کیونکہ پانامہ میں ان کے خلاف کچھ نہیں ملا تھا جس پر وہ اقامہ پر سزاوار ٹھہرے تھے۔
سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے مشرف دور میں اپنی ازخود جلاوطنی کا وقت یو اے ای میں ہی گزارا تھا اور جنرل پرویز مشرف خود محترمہ سے ملنے دبئی اپنے معاملات طے کرنے گئے تھے اور اقتدار سے محرومی کے بعد جنرل پرویز نے اپنا زیادہ وقت دبئی میں گزارا جہاں ان کا انتقال ہوا تھا اور وہ مرنے کے بعد پاکستان لائے گئے تھے۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف بھی اکثر یو اے ای جاتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں بھی صدر زرداری یو اے ای کے نجی دورے پر گئے تھے ، وہاں کے حکمران سے ملاقات کے موقع پر بلاول زرداری کے علاوہ بختاور بھٹو اور ان کے شوہر بھی موجود تھے۔
یو اے ای امیر ترین اور پٹرول سے مالا مال ملک ہے جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی تاجروں کا کاروبار بھی ہے اور پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد وہاں روزگار کے حصول کے لیے گئی ہے مگر راقم نے دبئی میں خود دیکھا ہے کہ وہاں پاکستانیوں کی اہمیت نہیں۔ بھارتی وہاں چھائے ہوئے ہیں اور پاکستانیوں سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ وہ پاکستانیوں کی طرح مقروض ملک کے شہری نہیں ہیں جب کہ پاکستانی حکمرانوں نے امیر مسلم ممالک کے علاوہ چین سے آئے دن قرضے مانگنا یا پہلے سے لیے گئے قرضوں کو رول بیک کرنے کی درخواستیں کرنا اپنا معمول بنا رکھا ہے۔
پاکستان کو قرضے دینے والے بعض ممالک پاکستان کو یہ مشورہ بھی دے چکے ہیں کہ وہ اپنے حالات ازخود بہتر بنائے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور قرضوں پر قرضے لینے سے گریز کرے۔ پاکستان کی ہر حکومت نے قرضے لینے ہی کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور حکومتی اخراجات کم کرنے اور شاہانہ انداز میں حکومت نہ کرنے پر کوئی حکمران تیار نہیں رہا اور وہ قوم کو مقروض رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہیں جس کی وجہ سے ہماری آنے والی نسل بھی مقروض پیدا ہو رہی ہے۔
حال ہی میں وفاقی وزیر تجارت کا بیان سامنے آیا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے پاکستان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور وزیر اعظم بھی کہہ چکے ہیں کہ قرض کے لیے ہمیں ان کی ہر شرط مان کر قرض لینا پڑ رہا ہے تو حکمران قرضے مانگ کر قرضے ادا کرنے اور مشکل شرائط پر آئی ایم ایف کی غلامی چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔
اب تک ہر حکومت اپنی مخالف حکومت کو قرضوں کا ذمے دار قرار دیتی آئی ہے مگر قرضے لینا اور پھر قرض رول اوور کرانا چھوڑ کیوں نہیں دیا جاتا، تاکہ دنیا میں پاکستانیوں کی بھی عزت ہو۔ قرضے لینے والوں کی نہ ملک میں عزت ہوتی ہے نہ قرضے لینے والے ممالک کو قرضے دینے والے عزت کے قابل سمجھتے ہیں، ہمارا ملک بھی اپنے پیروں پر کھڑا کیوں نہیں ہو رہا؟