خبر کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کے پاس 450 ارب ڈالر کا قدرتی خزانہ قیمتی پتھروں کی شکل میں موجود ہے اور حکومت نے اس شعبے کو فعال بنانے کے لیے 5 سالہ منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت 610 ایکسپورٹرز کو بین الاقوامی منڈیوں اور نمائش میں شرکت کے لیے اپنی مصنوعات پیش کرنے کی سہولت دی جائے گی تاکہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو اور ملک کو زیادہ ڈالر حاصل ہوں۔
اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کی برآمدات کو منظم اور بڑھانے کے لیے پانچ سالہ منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ منصوبے کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں موجود قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر کو جدید طریقوں سے نکالا جائے، تراشا جائے، ویلیو ایڈیشن ہو اور پھر عالمی مارکیٹ میں بہتر قیمت پر پیش کیا جائے۔ پاکستان اس شعبے میں اربوں ڈالر کما سکتا ہے اور دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جو ہم سے قیمتی پتھر خام شکل میں خریدتے ہیں، ان ملکوں میں کٹنگ، پالشنگ اور ویلیو ایڈیشن کی صنعت ترقی یافتہ ہے۔
مقامی کاریگر ان پتھروں کو تراش کر جدید پیکنگ کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں پہنچاتے ہیں اور پاکستان کی یہ حالت ہے کہ ان پتھروں کو کچے مال کی طرح بیچ دیتے ہیں۔ اگر آپ شمالی پاکستان کے پہاڑوں میں جائیں، گلگت بلتستان کی برفانی چوٹیوں کے دامن میں کھڑے ہوں یا سوات، چترال، کوہستان کی وادیوں میں سانس لیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ یہاں کی زمین میں قیمتی پتھروں کے خزانے پائے جاتے ہیں جن میں زمرد، یاقوت، نیلم اور دیگر قیمتی پتھر شامل ہیں۔ اس طرح قدرت نے پاکستان کو وہ قیمتی تحفہ دیا ہے جن کی قیمت تیل سے بھی زیادہ ہے۔
حکومت کا خیال ہے کہ ان قیمتی ذخائر کی قیمت 450 ارب ڈالر تک ہے حالانکہ اس سے بھی 100 گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان قیمتی پتھروں کو نکال کر خام حالت میں بیچ دیتے ہیں یہ اصل کمائی نہیں ہے بلکہ پتھر تراشنے میں ہے۔ اس کی کٹنگ، پالشنگ، گرینڈنگ، ڈیزائن، جیولری کی شکل میں ڈھالنا، اس طرح یہ پتھر، پتھر نہیں رہتے زیور بن جاتے ہیں اور دنیا اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت دینے کے لیے بروقت تیار رہتی ہے۔ یوں سمجھ لیں پاکستان پتھر نکال کر خام حالت میں بیچ دیتا ہے اور دنیا اس پر محنت کرکے تاج بنا کر بیچ کر کمائی کر لیتی ہے اور ہم منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔
قیمتی پتھروں کے سلسلے میں پاکستان کا سب سے بڑا المیہ اسمگلنگ ہے۔ ہمارے ہاں اکثر قیمتی پتھر غیر قانونی طور پر ملک سے باہر بھیج دیے جاتے ہیں جس سے حکومت کو ٹیکس نہیں ملتا۔ ملک کو زرمبادلہ نہیں ملتا، صنعت کو خام مال قانونی طور پر نہیں ملتا۔ مقامی کاریگر بے روزگار رہتا ہے اور فائدہ کسی دوسرے ملک کی مارکیٹ اٹھا لیتی ہے۔
بہرحال اب یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ 610 ایکسپورٹرزکو عالمی منڈیوں میں نمائش کی سہولت دی جائے گی۔ عالمی نمائشوں میں پاکستانی ایکسپوٹرز کی شرکت کا مطلب یہ ہے کہ تاجر کو براہ راست خریدار ملے گا۔
وہ عالمی معیار کو دیکھے گا، نئے رجحانات سیکھے گا اور اپنی مصنوعات کی بہتر قیمت حاصل کرے گا۔ اس طرح برائٹ پاکستان کی تعمیر ہوگی۔ پاکستان کو اربوں ڈالر کمانے کے لیے صرف نمائش نہیں بلکہ پورے نظام کو بدلنا ہوگا۔ نظام کا مطلب جدید کان کنی ہو، جدید ترین مشینری، تربیت یافتہ افرادی قوت، کٹنگ پالشنگ کے جدید یونٹس، لیبارٹری سرٹیفکیشن، عالمی معیار کی پیکنگ پھر کہیں جا کر ملکی تاجر بین الاقوامی منڈی سے فائدہ اٹھا کر ملک کو اربوں ڈالر کما کر دیں گے۔
خام حالت میں پتھر لے کر اس کی ویلیو ایڈیشن کے عمل کے ذریعے ہی اسے قیمتی بنایا جا سکتا ہے۔ تھائی لینڈ اور دیگر ملکوں کی مثال سامنے ہے۔ وہاں قدرتی ذخائر پاکستان جتنے نہیں ہیں، وہ پتھر خام حالت میں خریدتے ہیں اور ویلیو ایڈیشن کے بعد بیچتے ہیں اور بھرپور منافع کماتے ہیں۔
پاکستان میں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد بے روزگار ہے، قیمتی پتھروں کی صنعت ان کو روزگار فراہم کرنے کا اہم شعبہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایک چھوٹا سا کٹنگ یونٹ بھی بہت سے افراد کو روزگار دے سکتا ہے۔ مقامی صنعت کو فروغ دے سکتا ہے، برآمدات بڑھا سکتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ اس شعبے کو نہ اولین ترجیح دی گئی نہ ہی معیشت میں مرکزی حیثیت دی گئی اور اسے ایک چھوٹا کاروبار سمجھ کر چھوڑ دیا گیا۔ جب کہ دنیا میں یہ کاروبار اربوں ڈالر کی صنعت ہے۔
پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے پہاڑوں کے سینوں میں چمکتے ہوئے یہ پتھر ہمیں پیغام دیتے ہیں کہ قدرت نے پاکستان کو غریب نہیں بنایا بلکہ اس میں ہماری غفلت اورکوتاہی کا بڑا ہاتھ ہے، لہٰذا اگر پانچ سالہ منصوبہ واقعی میں ایسا بنا دیا گیا اور یہ 610 ایکسپورٹرز خام پتھر کے بجائے ان کو قیمتی زیور میں ڈھال کر بیچنے لگے تو ممکن ہے پاکستان کی معیشت پر ایک نئی روشنی ابھرے اور اربوں ڈالر کی قرضوں کی زنجیر ٹوٹ کر رہ جائے۔