پولیس ذرائع کے مطابق پشاور میں حملہ آور کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں کارروائی کے دوران اس کے دو بھائیوں اور ایک خاتون کو گرفتار کر لیا گیا۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے خودکش بمبار کا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا جس کی بنیاد پر حملہ آور کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے۔ شناختی کارڈ کے مطابق اس کا مستقل پتہ عباس کالونی، شیروجنگی چارسدہ روڈ پشاور درج ہے جبکہ موجودہ پتہ گنج محلہ قاضیان پشاور بتایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خودکش حملہ آور گزشتہ پانچ ماہ تک افغانستان میں مقیم رہا جہاں اس نے اسلحہ چلانے اور خودکش حملوں کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔
تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے جبکہ حملے کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور ممکنہ روابط کے حوالے سے بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
قبل ازیں وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ امام بارگاہ کے خودکش حملہ آور کی شناخت ہوگئی اور تمام معلومات حاصل کرلی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور افغانستان کا شہری نہیں تھا لیکن ان کی افغانستان سفر کرنے کی تفصیلات مل گئی ہیں اور ہوسکتا ہے 72 گھنٹوں کے اندر اندر ہم اس کو انجام تک پہنچا دیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ اور مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران خودکش دھماکے میں 32 نمازی شہید اور 162 زخمی ہوگئے ہیں، جن میں سے 29 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔