آئینی ترمیم ناگزیر، ملک میں یکساں بلدیاتی نظام لانا ہوگا؛ ایکسپریس فورم

آئینی ترمیم ناگزیر ہے، بلدیاتی حکومتوں کا آئینی ڈھانچہ بنانا ہوگا،موجودہ حکومت سمیت ہر سیاسی حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے سے گھبراتی ہے۔

ان خیالات کا اظہاراکیڈیما اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے ’’بلدیاتی نظام کی اہمیت ‘‘ کے حوالے سے منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں گفتگو کے دوران کیا۔

فورم کی معاونت کے فرائض احسن کامرے نے انجام دیے،سابق چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن خاور ممتاز نے کہا ہم نے2000ء والے بلدیاتی نظام کے تجربے سے نہیں سیکھا، 2022ء کے لوکل باڈیز ایکٹ میں خواتین کی نمائندگی زیادہ تھی جسے 2025ء میں کم کر دیا گیا،مطالبہ ہے کہ خواتین کی نمائندگی 33 فیصد کی جائے،نوجوانوں کی نمائندگی میں بھی اضافہ کیا جائے،ہمارے ہاں ایک بگڑا ہوا نظام ہے، مقامی حکومتوں کے کام اراکین اسمبلی کرنا چاہتے ہیں۔

ڈین فیکلٹی آ ف سوشل اینڈ بی ہیویئرل سائنسزجامعہ پنجاب پروفیسر ڈاکٹرارم خالد نے کہا کہ اس وقت حکومت اور عوام میں بداعتمادی کی فضا ہے،اگر سنجیدہ حلقے عوامی اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں تو ملک بھر میں فی الفور یکساں بلدیاتی نظام لانا ہوگا، ایم این ایز اور ایم پی ایز عوامی کی پہنچ سے دور ہیں۔

تجزیہ کار سلمان عابد نے کہا کہ کوئٹہ اور اسلام آباد میں بلدیاتی انخابات ملتوی ہوئے،پنجاب میں 2015ء کے بعد بلدیاتی الیکشن نہیں ہوئے، یہ وفاق، پنجاب اور بلوچستان کی حکومتوں کے ساتھ الیکشن کمیشن کی بھی ناکامی ہے،بلدیاتی حکومتوں کے حوالے سے قانونی فریم ورک کی ضرورت ہے،آئین کے آرٹیکلز کو اکٹھا کرکے بلدیاتی نظام کے حوالے سے الگ چیپٹر شامل کیا جائے،نئے بلدیاتی ایکٹ میں ان ڈائریکٹ الیکشن کی بات کی گئی جو آئین کے آرٹیکل 266کی خلاف ورزی ہے،ایکٹ میں خواتین کی نمائندگی کم ہے،اسے بڑھایا جائے۔

نمائندہ سول سوسائٹی پروفیسر ارشد مرزا نے کہا کہ بلدیاتی نظام نہ ہونے سے بلدیاتی اداروں میں سیکرٹریز موجود ہیں جو خود کو عوام کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے،ایسا لگتا ہے کہ فیصلہ ساز آئین اور قانون کی پابندی نہیں کرنا چاہتے،آئین پاکستان تقاضا کرتا ہے کہ بااختیار بلدیاتی حکومتیں قائم کی جائیں جنہیں مالی، سیاسی اور انتظامی اختیارات حاصل ہوں۔ 

Similar Posts