تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی میں پاکستان کا حصہ نصف فیصد سے بھی کم ہے۔ پاکستان میں زلزلے اسموگ دھند کے ساتھ سیلاب بھی آتے ہیں۔ پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال سے آلودگی پھیل رہی ہے، ماحولیات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اب تک پلاسٹک کے فضلے کو درست طریقے سے نہ استعمال اور نہ ڈمپ کرسکے ہیں۔ کلائمیٹ چینج پر دنیا بھر میں مستعدی کام ہورہا ہے جبکہ دنیا میں پلاسٹک سے سڑکیں بن چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم ڈیفالٹ پر تھے آئی ایم ایف ہمیں اپنے پروگرام میں شامل کرنے کے لیے ترجیح نہیں دیتا تھا، صنعتیں موسمیاتی تبدیلی کا سبب ہیں جس کے تدارک کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ وسط ایشیاء کی بہت سے ممالک کے پاس سمندر ہی نہیں ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صنعتی شعبہ آگے آئیں صنعتیں لگائیں اور 10 سال کی ٹیکس فری سہولت سے استفادہ کریں۔ ہمارے اسپیشل اکنامک زونز میں زیرو ڈیوٹی کی سہولت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیرملکی سرمایہ کاری بڑھانے لیے اقدمات کررہے ہیں۔ ایف ڈی آئی بڑھانے کے لیے غیر ضروری پابندیاں ختم کی جارہی ہیں۔ اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی میں اصلاحات کی گئی ہیں۔ جلد ہی ایف بی آر کےبھی غیر ضروری اختیارات ختم کردیئے جائیں گے۔