جن گھروں سے آپ کو ایسی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے وہاں عموما اوپر تلے کے چھوٹے بچے ہوتے ہیں اور مائیں روزمرہ کی صورتحال کے باعث گھن چکر بنی رہتی ہیں۔ کبھی ایک بچے کو دودھ کا فیڈر بنا کے دینا تو کبھی دوسرے کو ٹوائلٹ ٹریننگ دینی ہے، کبھی کھانا پکانا ہے تو کبھی ساس سسر کی خدمت کرنی ہے۔ یہاں بات جوائنٹ فیملی کی ہو رہی ہے لیکن دادی اماں کسی حد تک بچوں کو سنھبال لیتی ہیں۔
اصل مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب آپ الگ رہ رہے ہوں اور چھوٹے بچوں کا ساتھ ہو۔ اکثر لوگ ظاہری چیزوں پر ہی رائے قائم کرلیتے ہیں۔ کبھی یہ کہ بچہ چیزیں بکھیر رہا ہے، کبھی ماں نے غلط عادت ڈال دی ہے یا یہ خوامخواہ چڑچڑا ہو کر بدتمیز ہورہا ہے۔ اس سب کی ذمے داری باآسانی ماں پر ڈال دی جاتی ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے، کیونکہ کوئی بھی شخص ماں کی روزمرہ کی ذمے داری، جدوجہد، تھکن اور اس کی نیت کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتا۔
ماں بننا کوئی آسان کام نہیں ہوتا، یہ بہت بڑی ذمے داری کا نام ہے۔ جب بچے بہت چھوٹے ہوں تو ماں کی زندگی مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ اس کی نیند پوری نہیں ہوتی کیونکہ چھوٹا بچہ بار بار جاگتا اور مختلف اوقات میں سوتا ہے۔ ایسے میں ماں کی اپنی ضروریات پیچھے رہ جاتی ہیں۔ کیونکہ اس کی سوچوں کا محور اور توجہ کا مرکز صرف اور صرف اس کا بچہ ہوتا ہے۔ اس لیے اکثر خواتین سرے سے تیار ہی نہیں ہوتیں، ان کا ’می ٹائم‘ بچوں کی دیکھ بھال میں ہی گزر جاتا ہے۔
وہ ہر لمحے بچے کی صحت، حفاظت اور مستقبل کے بارے میں ہی سوچتی رہ جاتی ہے۔ بہت سے گھر ایسے ہوتے ہیں جہاں ہاتھ بٹانے والا کوئی نہیں ہوتا، کوئی ہاؤس ہیلپ نہیں ہوتی۔ جہاں بچے ہوتے ہیں وہاں بے ترتیبی تو ہوتی ہے بچے کھلونے بکھیرتے ہیں یہی بکھرے ہوئے کھلونے زندگی کی علامت ہیں کہ یہاں کوئی موجود ہے۔
دوسری طرف کتنے ہی جوڑے ایسے ہیں جو اولاد کی نعمت سے محروم ہیں جو یہ سب پھیلاوا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور ہے۔ ان کے آنگن معصوم بچوں کی شرارتوں اور قلقاریوں سے محروم ہیں۔
ہم اکثر یہ فراموش کردیتے ہیں کہ ہر ماں کے پاس ایک جیسی سپورٹ، سہولیات اور وسائل نہیں ہوتے۔ کوئی معاشی دباؤ کا شکار ہے تو کوئی پوسٹ پارٹم (زچگی کے بعد ہونے والا ڈپریشن) کا سامنا کررہی ہے۔ ایسے حالات میں اس ماں کو جج کرنا اور کسی کے رویے کا ججمینٹل ہونا مزید مسائل کو جنم دیتا ہے۔
ماں بننے کا عمل مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ اگر بات بات پر ماں کی روک ٹوک کی جائے گی تو اس میں اعتماد ختم ہو جائے گا اور وہ خود کو مجرم سمجھنے لگے گی۔
اگر ہم ماں کی ہر غلطی پر انگلی اٹھائیں گے تو وہ ایک انجانے خوف کا شکار ہوجائے گی، جبکہ اعتماد سے کی ہوئی باتیں اس کا دل بڑا کرنے کا سبب بن جائیں گی۔ جج کرنے کے بجائے اگر ہم ماؤں کی نفسیات کو سمجھیں، ان کے مسائل سنیں تو بہت حد تک وہ مثبت محسوس کریں گی۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ماؤں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ صفائی نصف ایمان ہے جب تک آپ چھوٹے بچوں کو اپنی چیزیں سنبھالنا نہیں سکھائیں گی تو وہ بڑے ہو کر بھی کام چور بن جائیں گے۔ ماؤں کو چاہیے کہ تھوڑے بڑے بچوں کو سمجھائیں کہ وہ چھوٹے بہن بھائیوں کے کھلونے سنبھالنے میں مدد کریں اور کچن میں بھی والدہ کا ہاتھ بٹائیں۔ اس میں لڑکا اورلڑکی کی کوئی تخصیص نہیں ہونی چاہیے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ہم ماؤں کےلیے مثبت اور محفوظ ماحول بنائیں، انھیں جج نہ کریں تاکہ وہ اپنے سوالات پوچھ سکیں، اپنے تجربات شئیر کرسکیں اور وقت آنے پر مدد مانگ سکیں۔ ان پر تنقید کے بجائے ان کا حوصلہ بنیں اور ان کی زندگی کو آسان بنائیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔