اک بار مسکرا دو

مسکراہٹ انسانی زندگی کا ایک انمول تحفہ ہے۔ سدرشن فاکرکا شعر ہے،

اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں

ہم ان کے لیے زندگانی لٹا دیں

ریڈیو پاکستان سننے والوں کی ہر دلعزیز گلوکارہ منی بیگم کی مشہور غزل میں بھی مسکراہٹ کی بہت عمدہ بات کی گئی ہے۔

ہونٹوں کی مسکراہٹ

بیچو خرید لوں گا

منظور ہو تو بولو

انمول دام دوں گا

لیکن ایک بار مُسکرا دو …

مہدی حسن کا بھی مشہورگیت ہے۔

خاموش ہیں نظارے، اک بار مسکرا دو

مسکراہٹ، مسکراتا چہرہ جس کی کوئی قیمت نہیں، یہ غموں کو بھلانے اور چھپانے کے لیے بھی کارگر ہے۔ ممتاز شاعرکیفی اعظمی کہتے ہیں۔

تم اتنا جو مسکرا رہے ہو

کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو

آنکھوں میں نمی ہنسی لبوں پر

کیا حال ہے کیا دکھا رہے ہو

مسکراتا چہرہ ایک بہترین دولت ہی نہیں بلکہ دنیا کی دولت کے حصول کا باعث بھی بنتا ہے۔ مسکراتا چہرہ جدید صدی میں ایک کاروباری ’’ ٹول‘‘ بھی بن گیا ہے۔

مسکراتا چہرہ یعنی ’’ سمائلی فیس‘‘ (smiley face) کس نے ایجاد کیا اور یہ کیسے منافع بخش کاروبار بنا؟ چند علامتیں ہی دنیا بھر میں اس قدر مقبول ہوئی ہیں جیسے ’’ سمائلی فیس‘‘ مسکراتے انسانی چہروں کی عکاسی بے شمار طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔

سب سے پہلے جدید ’’ سمائلی فیس‘‘ کا مشہور آئیڈیوگرام ڈیزائن کرنے والے امریکی آرٹسٹ اور ڈیزائنر ہاروی بال تھے۔ انھوں نے یہ ڈیزائن 1963 میں ریاست میساچوسٹس کے شہر وورسسٹر میں ایک انشورنس کمپنی کے وائس پریذیڈنٹ جیک ایڈم کے کہنے پر تیارکیا تھا،کیونکہ وہ اپنے بزنس کی خراب صورتحال میں چاہتے تھے کہ ان کے ملازمین افسردہ نہ ہوں اور خوش رہیں اور ان ملازمین ہی کے لیے ’’مسکراتا چہرہ‘‘ بنوایا گیا۔ یوں انھوں نے یہ ’’ مسکراتا چہرہ‘‘ صرف دس منٹ میں بنا لیا اور اس کے بدلے 45 ڈالرکمائے۔

اس کے بعد اس کا ڈیزائن انشورنس کمپنی کی پلیٹوں پر استعمال ہونے لگا۔ اسٹیٹ میوچل کمپنی کے ملازمین اور صارفین کی طرف سے 100 ’ بیجز‘ کی پہلی کھیپ اتنی ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئی کہ پھر اس کی ڈیمانڈ بڑھتی چلی گئی۔ صرف دو برس میں دیکھتے ہی دیکھتے یہ بیجز انشورنس کمپنی سے نکل کر ہر ایک کے استعمال میں آنے لگ گئے۔1967 میں اس آئیڈیا کو یونیورسٹی فیڈرل سیونگز اینڈ لون بینک کی مہم کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس مہم کے لیے تقریباً نصف ملین سمائلی چہرے کے بٹن پرنٹ کیے گئے تھے۔ یہ اس کی مقبولیت میں ایک اہم قدم تھا۔ بعد میں اسے ہر قسم کی اشیا پر چسپاں کردیا یعنی کارڈز، پوسٹرز، ٹی شرٹس،کپ اور لیمپ وغیرہ پر اسے لگا دیا گیا۔ پھر یہ ’’ مسکراتا چہرہ‘‘ 1970 میں ’ دی نیویارکر‘ میگزین کے صفحات پر اور اپریل 1972 میں ’’ میڈ میگزین‘‘ کے سرورق پر شائع ہوئے۔ یوں یہ ایک تجارتی رجحان بن گیا۔

1971 میں اخبار ’’ فرانس سوئر‘‘ کے ایک فرانسیسی صحافی فرینکلن لوفرانی نے مثبت خبروں کی نشاندہی کرنے کے لیے بھی یہ مسکراتا چہرہ استعمال کیا۔ فرینکلن لوفرانی، نے اسے بطور ٹریڈ مارک رجسٹرکیا۔ بعد میں لوفرانی نے صحافت چھوڑ دی اور ’’ دی سمائلی کمپنی‘‘ کی بنیاد رکھی۔ فرانس میں اس کو مقبول بنانے کے لیے یونیورسٹی کے طلبہ کو دس ملین اسٹیکرز دیے گئے۔ جلد ہی وہ ملک بھر میں یوٹیلٹی پولز اورکاروں پر چسپاں ہونے لگے، یوں وہ ثقافت کا حصہ بھی بن گئے۔

لوفرانی کی کمپنی کے لیے 80 کی دہائی سنہری ثابت ہوئی اور 1990 کی دہائی تک انھوں نے پہلے ہی 70 سے زیادہ ممالک میں سمائلی فیس رجسٹر کرا لیا تھا۔ آج یہ تقریباً سو ممالک میں رجسٹرڈ ہے۔ 1996 میں ’’ مسکراتا چہرہ‘‘ کو ڈیجیٹل کمیونیکیشن کا ایک لازمی حصہ بنا دیا۔ انھوں نے مختلف ’’ سمائلی‘‘ تاثرات والے سیکڑوں ایموجیز یا ایموٹیکانز ڈیزائن کیے تھے۔ یہ پہلی گرافک والی ایموجیز تھیں۔ اب سمائلی کمپنی کی سالانہ آمدن تقریباً 500 ملین ڈالر ہے۔اس کی ویب سائٹ پر سیکڑوں پروڈکٹس فروخت کی جاتی ہیں۔

آج ہمارے ہاتھوں میں موجود ہر موبائل میں  بے شمار مسکراتے چہرے ایمو جیزکی شکل میں موجود ہیں اور ہم ہر پل خوشی کے پیغامات میں استعمال کر رہے ہیں۔ تقریباً ہر موبائل استعمال کرنے والا ان مسکراتے چہروں کا استعمال کرتا ہے لیکن کیا ہمارے چہرے بھی اسی طرح مسکراتے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس پر ہم سب کو غورکرنا چاہیے۔ مسکراہٹ انسان کا ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے وہ اپنے مخالفین کا بھی دل جیتنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے ماحول کو بھی خوشگوار بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔

اس کے بے شمار فوائد بھی ہیں جس کی گواہی آج کی سائنس بھی دیتی ہے۔ جدید سائنسی تحقیق نے یہ ثابت کردیا ہے کہ مسکرانا انسانی جسم اور ذہن پرگہرے مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ مسکرانے کے فوائد صرف جذباتی نہیں بلکہ جسمانی، ذہنی اور سماجی سطح پر بھی نمایاں ہیں۔

سائنس کے مطابق جب انسان مسکراتا ہے تو دماغ میں اینڈورفنز (Endorphins)، ڈوپامین (Dopamine) اور سیروٹونن (Serotonin) جیسے خوشی کے ہارمون خارج ہوتے ہیں۔ یہ کیمیائی مادے ذہنی دباؤ (Stress)، اضطراب (Anxiety) اور ڈپریشن کوکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ زبردستی مسکرانے سے بھی دماغ کو خوشی کا پیغام ملتا ہے، جسے Facial Feedback Hypothesis کہا جاتا ہے۔

مسکرانے سے دل کی دھڑکن متوازن رہتی ہے اور بلڈ پریشرکم ہونے میں مدد ملتی ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق مثبت جذبات دل کی صحت کے لیے مفید ہیں۔ اس کے علاوہ مسکرانا مدافعتی نظام (Immune System) کو بھی مضبوط کرتا ہے کیونکہ خوشی کے ہارمون جسم کو بیماریوں سے لڑنے کے قابل بناتے ہیں۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مسکرانے سے درد کی شدت کم محسوس ہوتی ہے۔ اینڈورفنز قدرتی درد کش (Natural Painkillers) کے طور پرکام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے جسمانی تکلیف میں کمی آتی ہے۔

 اسی طرح سماجی نفسیات کے مطابق مسکراہٹ انسانوں کے درمیان اعتماد اور قربت کو فروغ دیتی ہے، جس سے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ مسکرانا چہرے کے پٹھوں کو متحرک رکھتا ہے، جس سے چہرہ تروتازہ اور جوان دکھائی دیتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق جو لوگ زیادہ مسکراتے ہیں وہ اپنی اصل عمر سے کم نظر آتے ہیں اور زیادہ پُرسکون زندگی گزارتے ہیں۔

یہ ہماری زندگی کا مشاہدہ بھی ہے کہ جو لوگ زیادہ خوش اخلاق ہوتے ہیں وہ مسکراتے بھی زیادہ ہیں۔ ہر ملنے والے سے مسکرا کر ملتے ہیں خواہ اس کا سماجی مرتبہ (سوشل اسٹیٹس) کچھ بھی ہو۔ مسکرانے اور خوش اخلاقی سے پیش آنے والوں کو ہرکوئی پسندکرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے سماجی تعلقات وسیع تر ہوتے ہیں اور وہ ہر دلعزیز شخصیت بن جاتے ہیں۔

مختصراً یہ کہ مسکراہٹ ایک انسان کو زندہ دل اور مقبول بناتی ہے اور جسمانی صحت کو بہت فائدہ پہنچاتی ہے۔ تو آیے! ہم بھی اپنے چہروں پر مسکراہٹ لائیں۔

Similar Posts