ایران سے تناؤ: آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے امریکا کی نئی ہدایات

امریکا نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ آبنائے ہرمز مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کا ایک اہم سمندری راستہ ہے، جہاں ایران کے جوہری پروگرام پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ ٹرانسپورٹیشن کے ماتحت میری ٹائم ایڈمنسٹریشن نے اپنی ہدایات میں کہا ہے کہ امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز ایرانی علاقائی پانیوں سے حتی الامکان دور رہیں۔

ہدایات کے مطابق اگر ایرانی فورسز جہاز پر سوار ہونے کی اجازت طلب کریں تو زبانی طور پر اجازت دینے سے انکار کیا جائے۔

امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت نیوی گیشن کی حفاظت کو متاثر کیے بغیر ایران کے علاقائی سمندر سے زیادہ سے زیادہ فاصلہ رکھیں۔

تاہم ہدایات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر ایرانی فورسز کسی امریکی تجارتی جہاز پر سوار ہو جائیں تو عملہ زبردستی مزاحمت نہ کرے۔

دوسری جانب ایران کے اعلیٰ سفارتکار نے جمعے کے روز کہا کہ عمان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات کا آغاز مثبت انداز میں ہوا ہے اور یہ مذاکرات آئندہ بھی جاری رہیں گے۔ ان بیانات کو اس خدشے میں کمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ کسی معاہدے میں ناکامی خطے کو جنگ کے قریب لے جا سکتی ہے۔

اگرچہ دونوں ممالک نے ایران کے جوہری تنازع پر سفارت کاری بحال کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت اور انسانی حقوق کے معاملات کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے۔

اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز ایران پر دباؤ میں اضافہ کرتے ہوئے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا، جس کے تحت کسی بھی ایسے ملک سے درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایران سے اشیا خریدتا ہو۔

Similar Posts