امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد تہران کی سب سے بڑی آمدنی کے ذریعے تیل کی برآمدات کو نشانہ بنانا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو ایران کی معیشت پر نمایاں دباؤ پڑ سکتا ہے تاہم اس فیصلے کو متعدد رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
سب سے بڑا خدشہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی ہے جسے امریکی عہدیدار تقریباً یقینی ردعمل قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کو اندیشہ ہے کہ ایران خطے میں امریکی اتحادیوں کے آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا سکتا ہے یا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا کر عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایسی کسی بھی پیش رفت سے عالمی تیل منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور خطے میں عسکری کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔