’بچے اغوا کرنے والا‘: بنگلہ دیش معاملے پر ہزیمت کے بعد بھارتی توپوں کا رُخ عثمان طارق کی طرف مُڑ گیا

بنگلہ دیش کے معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے پاکستان کے مطالبات ماننے کے بعد بھارت میں مایوسی کا سماں ہے۔ بھارتی میڈیا نے جے شاہ اور بھارتی کرکٹ بورڈ سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اب اپنی توپوں کا رُخ عثمان طارق کے بالنگ ایکشن کی طرف کر لیا ہے۔

بھارت کے ایک تجزیاتی پروگرام ’اسپورٹس یاری‘ کے میزبان سشانت مہتا نے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے عثمان طارق کو ’بچے اغوا کرنے والا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی وہ ٹھیک سے بالنگ کر رہے ہیں، لیکن بھارت کے خلاف میچ میں وہ دوبارہ ’چکنگ‘ شروع کردیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے اسپنر عثمان طارق کو اپنے بالنگ ایکشن کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔ ان پر کرکٹ کے کئی حلقوں کی جانب سے ’چکنگ‘ کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔


کرکٹ کے قانون کے مطابق، بالنگ کرتے وقت بازو کو ایک خاص طریقے سے گھُمانا ضروری ہے۔ اگر کوئی بالر گیند پھینکتے وقت اپنے بازو کو جھٹکا دے تو اسے ’چکنگ‘ کہا جاتا ہے۔

سشانت مہتا کے علاوہ بھی دیگر بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے عثمان طارق کو نشانہ بنایا۔

پرمود کمار نامی صارف نے اُن پر چکنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ”آئی سی سی نے انہیں بالنگ کی اجازت کیسے دی ہوئی ہے؟“

سابق بھارتی کرکٹر شریوتس گوسوامی نے بھی لکھا کہ ”اب تو فٹ بال میں بھی پیناٹی کِک کے دوران کھلاڑی کو رکنے کی اجازت نہیں ہے۔ پھر کرکٹ میں یہ سب کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے؟ ایکشن تک تو بات ٹھیک ہے، لیکن گیند پھینکنے کے لیے بازو اوپر لاتے وقت یوں اچانک رک جانا؟ یہ سلسلہ اب مزید نہیں چلنا چاہیے۔“

عثمان طارق کے کیریئر کے دوران دو بار ان کا ایکشن رپورٹ ہوا، لیکن دونوں بار انہیں کلین چٹ مل گئی۔ سابق انٹرنیشنل امپائر انیل چوہدری نے انہیں کلیئر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ایکشن بالکل قانونی ہے اور آئی سی سی کے قوانین کے مطابق ہے۔

عثمان طارق نے بھی اپنے ایکشن پر شک کرنے والوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے بازو میں قدرتی طور پر ایک ٹیڑھا پن ہے جس کی وجہ سے تماشائیوں کو غلط فہمی ہوتی ہے۔

عثمان طارق کا کہنا تھا کہ ”میری کہنی میں دو ایسی ہڈیاں نکلی ہوئی ہیں جن کی وجہ سے میرے لیے بازو کو بالکل سیدھا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو دیکھنے والوں کے لیے الجھن پیدا کرتی ہے۔“

ایک طرف جہاں بھارت میں عثمان طارق کے ایکشن پر تنقید جاری ہے تو وہیں بھارت میں ہی ان کے کچھ حمایتی بھی ہیں۔

بھارتی کرکٹ روی چندرن اشوِن نے عثمان طارق کے دفاع میں کہا کہ ”اگر بلے باز کو ’سوئچ ہٹ‘ کھیلنے کی اجازت ہے، تو بالر کو اس طرح کا فائدہ کیوں نہیں مل سکتا؟“

انہوں نے گوسوامی کو جواب دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ”تمام تر پابندیاں ہمیشہ بالر پر ہی کیوں لگائی جاتی ہیں؟“

جب عثمان طارق سے بھارتی شائقین کی تنقید کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ”میرا خیال ہے کہ اضافی دباؤ اُن (بھارت) پر ہوگا۔ جس طرح وہ اس معاملے پر بحث کر رہے ہیں اور اعتراضات اٹھا رہے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ وہ دباؤ میں ہیں۔ میں میڈیا میں ہونے والی باتوں پر توجہ نہیں دے رہا، میرا پورا فوکس اپنے کھیل اور پریکٹس پر ہے۔“

امریکا کے خلاف میچ میں تین وکٹیں لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت کے خلاف میچ کے حوالے سے عثمان نے کہا کہ وہ اسے ایک عام میچ کی طرح دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے ٹیم کو پلان سادہ رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ”ہمیں ماضی کے ریکارڈز کو شروع سے دیکھنا چاہیے جہاں ہم نے بڑے میچ جیتے تھے۔ جہاں تک اگلے میچ کا تعلق ہے، ہم سب کا مقصد صرف اپنا بہترین کھیل پیش کرنا اور ورلڈ کپ جیتنا ہے۔ جب آپ کسی میچ کو ذہن پر سوار کر لیتے ہیں تو دباؤ بڑھ جاتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ اسے سادہ رکھا جائے اور صرف اپنے پلان پر عمل کیا جائے۔“

عثمان طارق اب 15 فروری کو کولمبو میں بھارت کے خلاف ہونے والے بڑے میچ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ایکشن میں نظر آئیں گے۔

Similar Posts