یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی سپریم کورٹ پانچ ماہ قبل جیل حکام کو قیدیوں کے حالات بہتر بنانے کا حکم دے چکی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کئی فلسطینی قیدی رہائی کے بعد شدید کمزوری اور بیماری کی حالت میں سامنے آئے ہیں۔ نابلس سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ سامر خواہیریہ نے بتایا کہ انہیں میگیدو اور نفحہ جیل میں روزانہ صرف چند پتلے ٹکڑے روٹی، تھوڑی سی حمص اور تحینی دی جاتی تھی جبکہ ہفتے میں دو بار ٹونا فراہم کی جاتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نو ماہ کی قید کے دوران 22 کلو وزن کم کر بیٹھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دسمبر اور جنوری کے دوران سامنے آنے والی 13 شکایات میں 27 قیدیوں نے خوراک کی کمی کی نشاندہی کی اور دعویٰ کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود حالات میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔
ایسوسی ایشن فار سول رائٹس ان اسرائیل (ACRI) نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ جیلوں میں دانستہ طور پر سخت حالات برقرار رکھے جا رہے ہیں۔ تنظیم نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی قیدیوں تک ریڈ کراس کو رسائی دی جائے اور جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
ادھر اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ جیلوں کا نظام قانون کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جیلوں کا انتظام سخت گیر وزیر اتمار بن گویر کے سپرد کر رکھا ہے، جو ماضی میں قیدیوں کو دی جانے والی سہولتوں کو ختم کرنے کے بیانات دے چکے ہیں۔
یاد رہے کہ غزہ میں بھی خوراک کی کمی ایک بڑا مسئلہ بنی رہی ہے، جہاں اقوام متحدہ کے مطابق پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہوئے۔