ترجمان کے مطابق ملکی سطح پر پہلی بار شواہد پر مبنی ٹریفک انفورسمنٹ سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے جس کے تحت ویڈیو ثبوت کے ساتھ چالان کیا جائے گا اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ ٹریفک خلاف ورزیوں کی ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ اور قابلِ تصدیق ہوگی جب کہ موقع پر شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور چوری شدہ گاڑیوں کی تصدیق بھی کی جا سکے گی۔
علاوہ ازیں گاڑی کی ملکیت، فٹنس سرٹیفکیٹ اور روٹ پرمٹ کی فوری ویری فکیشن ممکن ہوگی جب کہ تجاوزات اور ماحولیاتی خلاف ورزیوں پر بھی ڈیجیٹل کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اسی طرح انٹیگریٹڈ سسٹم کے تحت ای چالان، ایف آئی آر اسٹیٹس اور کریمنل ریکارڈ بھی چیک کیا جا سکے گا۔ دوسرے مرحلے میں پوائنٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا اور ٹریفک خلاف ورزیوں پر ایف آئی آر کا اندراج بھی کیا جائے گا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹریفک وائلیشن کی تفصیلات کیو آر کوڈ کے ذریعے شہریوں کو موصول ہوں گی جبکہ ڈیجیٹل شواہد سے شفاف اور بلا امتیاز انفورسمنٹ یقینی بنائی جائے گی۔
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر نے کہا کہ ڈیجیٹل شواہد سے شفاف اور بلا امتیاز انفورسمنٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔ ون ایپ کے نفاذ سے سڑکوں پر نظم و ضبط اور محفوظ سفر کو فروغ ملے گا۔