بنگلہ دیش میں جین زی انقلاب کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا ہے، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ یہ الیکشن سیاسی طور پر نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں کیوں کہ حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد عوام نے پہلی بار نئی قیادت کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے۔
بنگلادیش میں عام انتخابات کے لیے 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد بنگلا دیشی شہریوں نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ حکومت بنانے کے لیے 300 میں سے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا لازم ہے جب کہ 299 حلقوں میں پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے شروع ہونے والے پولنگ کا عمل سہ پہر ساڑھے تین بجے تک جاری رہا۔
حکام نے 48 فیصد تک ٹرن آؤٹ کی تصدیق کردی جب کہ بنگلادیش میں جین زی انقلاب کے بعد یہ پہلا الیکشن ہے، جس میں ایک ہزار 981 امیدوار میدان میں ہیں۔
انتخابات کے لیے ملک بھر میں پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہو سکے۔
ملک میں اس وقت 51 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔ جن کے 1732 امیدوار حصہ لے رہے ہیں جب کہ 249 آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔ سیاسی منظرنامہ خاصا متحرک دکھائی دے رہا ہے اور مختلف اتحاد ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل ایک اتحاد بھی انتخابات میں حصہ لے رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو جین زی انقلاب سے جڑے نوجوان ووٹرز کی حمایت حاصل ہے، جو حالیہ سیاسی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کرنے والی نسل سمجھی جاتی ہے۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی جماعت بنگلہدیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت میں ایک اور بڑا انتخابی اتحاد قائم ہے، جو حکومت سازی کے لیے بھرپور مہم چلا رہا ہے۔ یہ اتحاد خود کو ملک میں استحکام اور سیاسی توازن کی علامت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ جین زی انقلاب کے وقت حسینہ واجد ملک کی وزیراعظم تھیں جن کا تختہ پلٹ دیا گیا تھا اور وہ ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں۔
عوامی لیگ پر عائد پابندی نے انتخابی مقابلے کی نوعیت کو بدل دیا ہے اور سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات بنگلا دیش کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
جین زی انقلاب کے بعد نوجوان ووٹرز کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے اور وہ نئی قیادت سے شفاف طرز حکمرانی اور معاشی بہتری کی امید رکھتے ہیں۔
پولنگ کا عمل جاری ہے اور نتائج آنے کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔