دہشت گردی کی تازہ لہر

15جنوری2026ضلع خاران میں سیکیورٹی فورسز نے اطلاع دی کہ انھوں نے 12مبینہ دہشت گرد حملہ آوروں کو جہنم واصل کیا۔رپورٹ کے مطابق فتنۃ الہندوستان کے سپانسر کیے گئے دہشت گردوں نے ضلع خاران میں کئی جگہوں پر حملے کیے جن میں انھوں نے پولیس اسٹیشن،نیشنل بینک آف پاکستان اور حبیب بینک کو ٹارگٹ کیا۔دہشت گردوں کی کوشش تھی کہ ان مقامات پر بینکوں کو لوٹا جائے اور چند افراد کو اغوا کر کےHostage situationپیدا کی جائے تاکہ وہ مزید رقم بھی ہتھیا سکیں اور اپنے مطالبات منوا سکیں۔ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے حملہ آور دہشت گردوں کو انگیج کیا اور کم از کم 12دہشت گرد مارے گئے۔

لوکل انتظامیہ نے سیکیورٹی فورسز کی بروقت جرات مندانہ کارروائی کو بے حد سراہا اور کہا کہ دہشت گردوں کو للکار کر ٹھکانے نہ لگایا جاتا تو بہت زیادہ نقصان ہوتا۔13جنوری کو ہندوستانی پراکسی بی ایل اے کے دہشت گردوں نے ایک بار پھر ایک بڑی کارروائی کی اور بلوچستان کے طول و عرض میں 12مقامات پر جن میں کوئٹہ بھی شامل ہے،حملہ کیا۔اس دہشت گردانہ فعل کی خاص بات یہ تھی کہ یہ حملے ایک ہی وقت میں مختلف مقامات پر ہوئے اور ان میں بلا کی کوآرڈی نیشن تھی۔ایک بی ایل اے اوپریٹو سے پکڑے گئے اسلحے کو دیکھ کر بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنی بڑی فنڈنگ ہو رہی ہے اور دہشت گرد کس قدر جدید اسلحے و کمیونی کیشن آلات سے لیس ہیں۔

اتنے زیادہ اور اتنے مربوط حملے چونکا دینے والے ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں ایسا اور اتنے بڑے پیمانے پر شاید پہلی بار ہوا ہے۔یہ حملے کوئٹہ،گوادر،مستونگ،نوشکی،پسنی اور خاران سمیت کئی اضلاع میں ہوئے۔ان حملوں میں خودکش بمبار بھی تھے،انھوں نے پیرا ملٹری فورسز،پولیس اسٹیشنوں، مارکیٹوں،بینکوں اور سرکاری دفاتر کو نشانہ بنایا۔ ہمارے جفاکش،نڈر اور جان ہتھیلی پر رکھے سیکیورٹی افراد نے بلا شبہ بہت دلیری اور ہوشیاری سے ان حملوں کا دندان شکن جواب دیا اور بہت سے دہشتگرد جہنم واصل کیے۔دفاعی ذرائع کے مطابق216 دہشت گرد مارے گئے ، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جناب سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ہمارے پاس 180کے قریب دہشت گردوں کی لاشیں ہیں۔

31جنوری2026 کو بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملے اپنی نوعیت کی بہت منفرد کارروائی ہے،کیونکہ اس میں دہشتگردوں کے درمیان بہت مربوط کوآرڈینیشن تھی۔یہ اب بہت عیاں ہے کہ ان حملوں کے پیچھے بی ایل اے اور فتنۃ الہندوستان گروپس ہیں۔ان حملوں میں عسکریت پسندوں نے لمبے دورانیے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو الجھائے رکھنے کی سرتوڑ کوشش کی۔ ایک بات جو کھل کر سامنے آئی وہ یہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بہت کامیابی سے حملوں کو نہ صرف روکا بلکہ حملہ آوروں کا کامیابی سے تعاقب کیا اور انھیں گھیر کر مارا۔کئی دہشت گرد جان بچا کر بھاگ گئے ہوں گے لیکن ان کی اکثریت بچ نہ سکی اور ایک بڑی تعداد ماری گئی۔سیکیورٹی فورسز کے ذرائع بتاتے ہیں کہ کم از کم 216دہشت گرد مارے گئے۔

بہر حال مرنے والے شرپسندوں کی تعداد کوئی بھی ہو یہ صاف ظاہر ہے کہ ایک بڑی تعداد نے کوآرڈینیٹڈ حملہ کیا اور ان میں سے اکثریت مارے گئے۔کہا جا رہا ہے کہ پندرہ سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جب کہ سویلین شہادتوں کی تعداد 30کے قریب ہے۔سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر CombingاورClearance operationلانچ کیے۔بی ایل اے دہشت گردوں نے 14جنوری کو گھات لگا کر اورمارہ،پسنی کے علاقے میں فرنٹیئر کور کے ایک قافلے پر حملہ کیا جس میں 8جوان شہید ہوئے۔17جنوری کو ایک اور ایسا ہی حملہ کیا گیا لیکن سیکیورٹی اہلکار چوکس تھے اور 5دہشتگردوں کا خاتمہ کر دیا۔دنیا بھر نے دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کی۔اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل بشمول سیکریٹری جنرل نے اس کی مذمت کی۔ہم پر تو واضح ہو چکا ہے کہ انڈیا اور افغانستان پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں،خدا کرے دنیا بھی انڈیا کے اس مکروہ چہرے کو پہچان جائے۔

ابھی اس واقعے سے بہنے والا خون تازہ تھا کہ افغانستان میں تربیت یافتہ خودکش بمبار نے اسلام آباد کی نواحی بستی ترلائی میں پہلے فائرنگ کر کے اور پھر اپنے آپ کو اُڑا کر معصوم پاکستانی شہریوں اور عبادت میں مصروف لوگوں کے خون کی ہولی کھیلی۔انڈیا اور افغانستان کا پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ بہت نمایاں ہو چکا ہے۔آئے روز کوئی نہ کوئی دہشت گردی کی کارروائی ہو رہی ہے۔انڈیا ایسی کارروائیوں میں شریک ہر دہشت گرد کو اب 1500ڈالر دے رہا ہے۔افغانستان پر پاکستان کی ہر پالیسی ناکام رہی ہے۔پاکستان نے افغانوں کی ہر ممکن مدد کر کے بھی دیکھا اور ان کو نقصان پہنچائے بغیر آنکھیں نکال کر بھی دیکھا لیکن افغان ہمیشہ پاکستان کو استعمال اور Exploitہی کرتے نظر آئے۔انھوں نے اپنے ملک کو تباہ و برباد کر دیا ہے لیکن وہ پاکستان کو بھی اسی صف میںکھڑا کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان افغان طالبان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا لیکن طالبان کو جونہی موقع ملا وہ جلدی سے دہلی پہنچے اور بغل گیر ہو گئے کیونکہ ان کے خیال میں پاکستان کو Maximum exploitکرنے کا یہ آزمودہ طریقہ ہے۔

اسلام آباد کی بستی ترلائی میں شیعہ امام بارگاہ جامع خدیجۃالکبریٰ میں جمعہ 6فروری کو عبادت گزار نماز کی ادائیگی کے لیے جمع تھے جب خودکش بمبار وہاں پہنچا۔پہلے اس نے فائرنگ کی اور پھر اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔آخری اطلاعات تک 33افراد جان کی بازی ہار چکے تھے۔زخمیوں کی تعداد 150سے اوپر بتائی جا رہی ہے جن میں سے شاید 20افراد شدید زخمی ہیں۔خدا ان کی جان بچائے اور ان کے لواحقین کے سر پر قائم رکھے۔اسلام آباد کے دو اسپتالوں پمز اور پولی کلینک میں شہید اور زخمیوں کو لایا گیا۔جان سے جانے والوں کی تو شاید یہ بہت اعلیٰ موت ہے۔

وہ اپنے خالق و مالک رب کے سامنے سربسجود ہونے کے لیے مسجد جاتے ہیں۔ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ سجدے میں موت آئے اسی لیے کہا جا سکتاہے کہ شہید ہونے والوں کو بہترین موت نصیب ہوئی لیکن لواحقین کی زندگیاں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔شدید مہنگائی کے اس دور میں روزی کمانے والا اگر اُٹھ جائے تو گھر تباہ ہو جاتا ہے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ برین واشنگ اور مذہب کی غلط تعبیر و تشریح کی وجہ سے ایک مسلمان دہشت گرد بن کر اپنے ہی ہم مذہبوں کو دورانِ عبادت تہ و تیغ کرنے پر تُل جاتا ہے۔

Similar Posts