پروازوں کی آمد اور روانگی میں گھنٹوں کی تاخیر اور عین وقت پر پروازوں کی منسوخی جیسے مسائل بھی مسافروں نے برادشت کیے مگر لاہور، کراچی، اسلام آباد، ائیرپورٹس سمیت دیگر ائیرپورٹ پر سہولیات کا فقدان ہی نظر آیا۔ مسافروں کی سیکڑوں نہیں ہزاروں شکایات کے باوجود پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی مسافروں کو جدید سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔
ایکسپریس نیوز کو پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کے طرف سے ملنے والی معلومات کے مطابق گزشتہ برس علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ جناح انٹرنیشنل سمیت اسلام آباد پشاور، کوئٹہ، ملتان، فیصل آباد، ائیرپورٹ پر مسافروں کو بے پناہ مشکلات کا سامنا رہا۔
سب سے زیادہ سفر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 85 لاکھ مسافروں نے بین الاقوامی اور اندرون ملک سفر کیا جس میں سے چالیس لاکھ 37 ہزار بین الاقوامی اور چالیس لاکھ 13 ہزار اندرون ملک مسافروں نے سفر کیا۔
ملتان سے 13 لاکھ 65 ہزار افراد نے بین الاقوامی اور 80ہزار مسافروں نے اندرون ملک سفر کیا، علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 68لاکھ 60ہزار مسافروں نے سفر کیا جس انٹرنیشنل جانے والے 51 لاکھ 40 ہزار جبکہ اندرون ملک سفر کرنے والے 17 لاکھ 30 ہزار مسافر تھے۔
اسلام آباد ائیرپورٹ سے 78 لاکھ 70 ہزار مسافروں نے سفر کیا جس میں سے انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے والے 54 لاکھ 10 ہزار اور ڈومیسٹک 24 لاکھ چھ ہزار تھے۔ فیصل آباد ائیرپورٹ سے چار لاکھ 70 ہزار مسافروں نے سفر کیا جس میں انٹرنیشنل جانے والے 4 لاکھ بیس ہزار جبکہ پچاس ہزار ڈومیسٹک مسافر تھے۔
پشاور ائیرپورٹ سے 12 لاکھ 90 ہزار مسافروں نے سفر کیا جس میں انٹرنیشنل جانے والے مسافروں کی تعداد 10لاکھ 60ہزار رہی۔ کوئٹہ ائیرپورٹ سے تین لاکھ 75 ہزار مسافروں نے سفر کیا۔