پی ایس کیو سی اے اس نظام کے لیے ضروری ہارڈویئر اور محفوظ نیٹ ورک انفرا اسٹرکچر کی خریداری اور تنصیب کی نگرانی کرے گا۔
ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے ڈاکٹر سیدہ ضیاء بتول کا کہنا ہے یہ شراکت داری محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک بنیادی اصلاح ہے جس کے ذریعے دستی طریقہ کار کا خاتمہ، صوابدیدی عمل میں کمی اور حقیقی وقت میں جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (CGA) اور پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کے مابین مالیاتی نظام کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کر دیے گئے۔
یہ معاہدہ پی ایس کیو سی اے میں فنانشل اکاؤنٹنگ اینڈ بجٹنگ سسٹم کے باضابطہ نفاذ کا آغاز ہے، جو ادارہ جاتی جدت اور مالیاتی اصلاحات کی جانب ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اقدام ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے ڈاکٹر سیدہ ضیاء بتول کی قیادت میں جاری اصلاحاتی ایجنڈے کا مرکزی حصہ ہے، جو وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی کے وژن کے مطابق گورننس کو مضبوط بنانے، مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے اور مکمل ڈیجیٹلائزیشن و شفافیت کے ذریعے عوامی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
مفاہمت کی یادداشت پر کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل (مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز) عبدالباسط جسرا اور پی ایس کیو سی اے کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سیدہ ضیاء بتول نے دستخط کیے۔
اس موقع پر وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے سیکرٹری شاہد اقبال بلوچ بھی موجود تھے، جنہوں نے اس اقدام کو پی ایس کیو سی اے میں مالیاتی شفافیت، جوابدہی اور ادارہ جاتی کارکردگی کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
معاہدے کے تحت کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اپنے ڈائریکٹوریٹ جنرل (مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز) کے ذریعے پی ایس کیو سی اے کے کراچی میں واقع ہیڈکوارٹرز اور ملک بھر کے علاقائی دفاتر میں ایف اے بی ایس کے نفاذ کے لیے مکمل تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔
معاہدہ کے تحت تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کو ڈیجیٹل اور منظم بنانے کے لیے سافٹ ویئر کے مفت لائسنس فراہم کیے جائیں گے، مؤثر نفاذ کے لیے ماہر ایس اے پی پروفیشنلز کی خدمات حاصل کی جائیں گی اور پی ایس کیو سی اے کے عملے کو باقاعدہ تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ طویل مدت میں نظام کو خود مختار طور پر چلانے اور برقرار رکھنے کے قابل ہو سکیں۔
معاہدہ کے تحت سسٹم میں نیشنل چارٹ آف اکاؤنٹس کو اپنایا جائے گا، جس سے معیاری، شفاف اور آڈٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ مالیاتی رپورٹنگ یقینی بنائی جا سکے گی۔
مزید برآں اس معاہدہ کے مطابق پی ایس کیو سی اے اس نظام کے لیے ضروری ہارڈویئر اور محفوظ نیٹ ورک انفرا اسٹرکچر کی خریداری اور تنصیب کی نگرانی کرے گا۔
اس موقع پر ڈاکٹر سیدہ ضیاء بتول نے کہا کہ یہ شراکت داری محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک بنیادی اصلاح ہے جس کے ذریعے دستی طریقہ کار کا خاتمہ، صوابدیدی عمل میں کمی اور حقیقی وقت میں جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ معاہدہ حکومت کے ’’ڈیجیٹل پاکستان‘‘ وژن کی عکاسی اور اس امر کا ثبوت ہے کہ پی ایس کیو سی اے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر سروسز کی فراہمی، آپریشنل کارکردگی اور عوامی اعتماد کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔