کراچی کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی بلکہ وڈیروں کا تسلط ہے، حافظ نعیم

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نااہلی، کرپشن اور حکومت کے نام پر وڈیروں کا تسلط ہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے مقامی ہوٹل میں ”کراچی بدحالی سے بحالی تک“ کے عنوان سے”کراچی اسٹیک ہولڈرزراؤنڈ ٹیبل کانفرنس“سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بدترین حکمرانی، بد انتظامی، نا اہلی اور کرپشن ہے،سیاست و حکومت کے نام پر وڈیروں و جاگیرداروں کا تسلط ہے جو کراچی کے وسائل اور اداروں پر قابض ہیں، یہ قابض ٹولہ اب اہل کراچی کی آواز بھی دبانا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کراچی پر مزید 20سال بھی مسلط رہیں تو مسائل حل نہیں ہوں گے، جب تک ہم وڈیروں، جاگیرداروں اور حکمرانوں کے گٹھ جوڑ سے نجات حاصل نہیں کریں گے مسائل حل نہیں ہو سکتے، اسٹیبلشمنٹ کو بھی جواب دینا ہوگا جس نے کراچی کے عوام پر مسترد شدہ لوگوں کو مسلط کیا، بلدیاتی انتخابات میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا اور میئر شپ کو چھینا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کا حق ہے کہ ان کو میگا سٹی حکومت دی جائے،18ویں ترمیم کے مطابق اختیارات و وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں، آرٹیکل 140-Aکے تحت بلدیاتی اداروں کو مالی و انتظامی اختیارات دیئے جائیں، جماعت اسلامی کراچی کے حق، مسائل کے حل اور با اختیار شہری حکومت کے لیے 14فروری کو سندھ اسمبلی پر دھرنا دے گی، کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز ہمارے ساتھ مل کر جدو جہد و مزاحمت کریں اور سڑکوں پر آئیں تو کوئی حکومت و اسٹیبلشمنٹ ہمارا راستہ نہیں روک سکے گی اور کراچی کو اس کا حق دینا پڑے گا

۔راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر،ایس بی سی اے کمیٹی کے ممبر عارف قاسم،سابق سینئر نائب صدر فیڈریشن چیمبرآف کامرس سلمان چاولہ،سابق وائس پریزیڈنٹ چیمبر آف کامرس شبیر منشا، فباٹی کے صدر شیخ تحسین،فباٹی کے سابق صدر بابر خان،لکی ون مال کے سی ای او سعد زبیری، اربن پلانر انجینئر فرحت عادل،جنرل سیکریٹری کراچی پریس کلب اسلم خان، سی ای او گروسیف سعد عبد الوہاب،سینئر صحافی و جرنلسٹ منزہ صدیقی نے بھی خطاب کیا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ مسئلے کی تشخیص درست نہیں ہوگی تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کراچی انفرااسٹرکچر سیس اور ڈویلپمنٹ بجٹ کے 3360 ارب روپے کراچی پر خرچ نہیں ہوئے، شہر کو ایسے اسٹیک ہولڈرز کی ضرورت نہیں جو اسٹبلشمنٹ کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، ڈھائی سال قبل کراچی کے شہریوں کی جانب سے جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ ووٹ دینے کے باوجود انتخابات پر ڈاکا ڈالااور میئر شپ بھی چھینی گئی، جس کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 55 ارب روپے کے بجٹ کے ساتھ جماعت اسلامی کا مئیر ہوتا تو کراچی کا یہ حال ہر گز نہیں ہوتا؟ جماعت اسلامی کے 9 ٹاونز میں سرکاری اسکول بحال اور پارکس بنائے گئے، سڑکوں کی مرمت کا کام کیا جارہا ہے۔ ہم اپنے حصے کا کام اختیار ات سے بڑھ کر کررہے ہیں۔

حافظ نعیم نے کہا کہ صوبے بنانے کے لیے زرداری، نواز شریف، ایم کیو ایم سے بات کر کے جتنے صوبے بنانے ہیں بنائیں عوام کو کیوں لڑوایا جاتا ہے، بلدیاتی نظام میں سب سے بہتر نظام 2001 والا تھا۔ موجودہ  نظام میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سابقہ یوسیز کی بنیاد پر کام کررہا ہے اس ادارے کاٹاؤنز و ویوسیز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے پاس اختیار نہیں ہے اس کے باوجود کام کروا رہے ہیں،ہم اپنی نسلوں کو برباد نہیں کرواسکتے، اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے لڑیں گے اور جدوجہد و مزاحمت کریں گے۔

عتیق میر نے کہا کہ کراچی میں کوئی بھی شعبہ یا حکومتی ادارہ ایسا نہیں جو بہتر کام کررہا ہو، ہم 17 سال سے آواز اُٹھا رہے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ سندھ میں سیلاب آیا تو 95 فیصد سندھ ڈوب گیا کوئی پوچھنے والا نہیں، اب وقت آگیا ہے کہ جن لوگوں نے عذاب مسلط کیا ہے انہیں مجبور کیا جائے کہ اب کراچی کا حق دو یا پیچھے ہٹ جاؤ۔ عارف قاسم نے کہا کہ ہر ادارے میں کرپشن اور لوٹ مار ہے، مسئلہ ایتھکس کا ہے انجینئرنگ کا نہیں ہے۔

سلمان چاولہ نے کہا کہ مسائل سے زیادہ اس کے حل کے لیے بات کرنے کی ضرورت ہے، کراچی کا المیہ یہ ہے کہ اس کی کوئی اونر شپ لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔جماعت اسلامی کے شکر گزار ہیں جس نے شہر کے لیے آواز اٹھائی۔

شبیر منشا نے کہا کہ کراچی کے عوام جس اذیت کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے، ایک ہی شہر میں بہت سارے ادارے ہیں سمجھ نہیں آتا کہ کس کے پاس جاکر سوال کیا جائے؟ سب سے بڑا مسئلہ کراچی کی آبادی کا ہے جو ابھی تک درست گنی ہی نہیں گئی۔ کراچی میں بلڈنگز کا طوفان آرہا ہے اور سب بغیر کسی پلاننگ کے ہورہا ہے۔ 

Similar Posts