چین میں اب پیدائش کی شرح بہت کم ہو گئی ہے، جو تاریخی طور پر سب سے نچلی سطح پر ہے۔ ماہرین فکر مند ہیں کہ آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ ملک کی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ چین میں کام کرنے والوں کی تعداد کم ہو رہی ہے، جبکہ بزرگ شہریوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس سے پنشن سسٹم پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور صحت کے شعبے پر اخراجات زیادہ ہو رہے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق چینی حکومت نے پیدائش بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے، جیسے نقد رقم دینا، ٹیکس میں چھوٹ دینا اور شادی کے قوانین آسان کرنا، لیکن اب تک یہ بہت مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔
اب حکومت ایک اور حل پر غور کر رہی ہے اور وہ ہے، ”روبوٹس اور خودکار ٹیکنالوجی۔“
چین کے صدر، زی جن پنگ، نے کئی سالوں سے ملک کی صنعت میں خودکار نظام اور جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دیا ہے تاکہ چین ایک جدید اور خود کفیل ملک بن سکے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی اور آبادی کے مسائل مل کر چین کی معیشت کا مستقبل شکل دے سکتے ہیں۔
ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر سٹیورٹ گیٹل باسٹن کے مطابق، اگر چین نے گزشتہ 20-30 سالوں کی طرح بس موجودہ طریقے سے چلنا جاری رکھا، تو معیشت اور آبادی کے درمیان عدم توازن ایک بڑے بحران کا سبب بن سکتا ہے، مگر حکومت اس بحران کو روکنے کی کوشش کرے گی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر چین آٹومیشن، روبوٹکس اور اے آئی میں کامیاب ہو جائے، تو کم ہوتی ورک فورس کے باوجود معیشت کو مضبوط رکھا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی فیڈریشن آف روبوٹکس کے مطابق، چین پہلے ہی دنیا کا سب سے بڑا صنعتی روبوٹ مارکیٹ ہے، اور 2024 میں عالمی سطح پر نصب ہونے والے روبوٹس کا تقریباً نصف حصہ چین میں تھا۔
چینی فیکٹریاں اب خودکار نظام کے تحت کام کر رہی ہیں، جہاں روبوٹس گاڑیوں کے پارٹس جوڑتے، پینٹ کرتے اور سولر پینلز یا الیکٹرک وہیکلز تیار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی پیداوار کم لاگت اور بڑی تجارتی برآمدات کے لیے مشہور ہے۔
چین میں 140 سے زائد کمپنیاں ہیومنائڈ روبوٹس تیار کر رہی ہیں۔ فی الحال یہ روبوٹس زیادہ تر عوامی مظاہروں، رقص اور پروموشنز میں دکھائے جاتے ہیں، لیکن کچھ روبوٹس پہلے ہی اسمبلی لائنز، لاجسٹکس اور سائنسی لیبارٹریز میں کام کر رہے ہیں۔
یہ سب اقدامات حکومت کی ”میڈ اِن چائنا 2025“ پالیسی کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد صنعتی خودمختاری اور ہائی ٹیک مقابلہ قائم رکھنا ہے۔
چین میں 60 سال یا اس سے زائد عمر کے شہریوں کی تعداد 23 فیصد ہے، اور اقوام متحدہ کے مطابق 2100 تک یہ نصف سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ”ون چائلڈ پالیسی“ کی وجہ سے زیادہ تر بچے اپنے والدین کی دیکھ بھال خود کریں گے، جس سے بزرگوں کے لیے دیکھ بھال کا بوجھ بڑھ جائے گا۔ حکومت روبوٹس اور جدید آلات کے ذریعے اس بوجھ کو کم کرنا چاہتی ہے۔
مختصراً ہم اس مسئلے کو یوں بیان کرسکتے ہیں کہ چین کی آبادی کم ہو رہی ہے اور بزرگ شہری زیادہ ہو رہے ہیں۔ یہ پنشن، صحت اور اقتصادی پیداوار پر دباؤ ڈال رہا ہے۔
حکومت نے پیدائش بڑھانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ روبوٹکس، خودکار نظام اور اے آئی کو بھی استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ کم ہوتی ورک فورس کے باوجود معیشت مضبوط رہے اور بزرگوں کی دیکھ بھال آسان ہو۔