ترک اور افغان خبر رساں اداروں کے مطابق ترکیہ کے شہر ایڈرنے میں یورپ جانے کی کوشش کرنے والے 18 افغان مہاجرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جنہیں ملک بدر کرنے کے لیے مائیگریشن سینٹرز منتقل کر دیا گیا ہے۔
ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مائیگریشن مینجمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 42 ہزار سے زائد غیرقانونی افغان مہاجرین کو حراست میں لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیرقانونی نقل و حرکت کی روک تھام کے لیے نگرانی سخت کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب افغانستان کی موجودہ صورتحال پر بھی ماہرین تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک افغانستان میں سیاسی استحکام، مؤثر حکمرانی اور شدت پسند عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے، تب تک علاقائی سلامتی کو خطرات لاحق رہیں گے۔
یاد رہے کہ افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان کی پالیسیوں پر عالمی سطح پر تنقید کی جاتی رہی ہے، جبکہ مختلف ممالک غیرقانونی امیگریشن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔