مرکزی عمارت کے اندر داخل ہونے کی ہی لائن لگی ہوئی تھی،یہاں سے آگے جائیں تو سامان اسکین کروانے کی لائن تھی،پھر اینٹی نارکوٹکس والے سب نہیں کچھ لوگوں کو روک کرپوچھ گچھ کرتے۔
آگے بورڈنگ پاس کیلیے ٹرکش ایئرلائنز کی جتنی بڑی لائن تھی میں نے پاکستان میں کبھی کسی ائیرلائن کاؤنٹر پر نہیں دیکھی، البتہ خوش قسمتی سے سری لنکنز ایئرلائنز کے کاؤنٹر پر زیادہ رش نہیں تھا۔
بورڈنگ پاس ملنے کے بعد امیگریشن کاؤنٹرز کی جانب دیکھا تو وہاں بھی صورتحال نسبتا بہتر لگی، زیادہ کاؤنٹرز فعال تھے، البتہ اب بھی رش زیادہ ہوجاتا ہے۔
لاؤنج میں ہی اندازہ ہو گیا کہ بیشتر کرکٹ شائقین ہی کولمبو جا رہے ہیں، اکثر کی فیملیز بھی ساتھ تھیں، پی سی بی کی شرٹ پہنے ایک صاحب کئی فارمز تھامے فاسٹ ٹریک میں تمام مراحل طے کراتے نظر آئے،بعد میں پتا چلا وہ گورننگ بورڈ ارکان کا پروٹوکول دیکھ رہے تھے۔
میرے ساتھ فلائٹ میں ظہیر عباس سمیت کئی بی او جی ممبرز موجود تھے جنھیں بورڈ پاک بھارت میچ دیکھنے کیلیے بھیج رہا تھا، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے، سفر ٹھیک رہا البتہ پرانے جہاز نے پی آئی اے کی یاد دلا دی۔
نشستوں کا حال بھی بہت خراب تھا،فون کے برابر کی اسکرین سامنے لگی تھی،سچ بتاؤں مجھے تو تھوڑا ڈر بھی لگ رہا تھا جو ٹیک آف سے قبل ڈھوں ڈھاں کی آوازوں نے مزید بڑھا دیا لیکن جہاز آسمان پر جانے کے بعد سب ٹھیک رہا، فلائٹ اور لینڈنگ دونوں بہتر تھیں۔
پاکستانیوں کو سری لنکا جانے کیلیے ای ٹی ای کا سادہ سا آن لائن فارم بھرنا ہوتا ہے ، فیس 20،25 ڈالر ہے،24 گھنٹے میں ڈبل انٹری ویزا سب کو ہی مل جاتا ہے، میں نے دسمبر میں ہی یہ مرحلہ مکمل کر لیا تھا، البتہ کئی دوستوں سے سنا کہ اب ای ٹی اے میں تاخیر ہو رہی ہے، شاید وجہ شائقین کا رش بنی۔
سری لنکا نے اس مسئلے کا حل آمد کے بعد ویزا دینے کی صورت میں نکال لیا، میری فلائٹ میں جو دیگر پاکستانی تھے ان میں سے کئی کو آن ارایول ویزا ہی ملا، امیگریشن کا مرحلہ 3،4 منٹ میں ہی حل ہو گیا،کرنسی تبدیل کرائی تو علم ہوا کہ سری لنکن روپے سے پاکستانی روپیہ تھوڑا مضبوط ہے۔
ایئرپورٹ سے جاتے ہوئے راستے میں بڑے بڑے کسینیوز کے بل بورڈز دیکھے، سری لنکا میں بہت سے لوگ صرف جوا کھیلنے بھی آتے ہیں، ان کی اکانومی سیاحت سے ہی چلتی ہے، کوویڈ کے دنوں میں جب سیاحوں نے آنا چھوڑا تو ملک دیوالیہ ہو گیا تھا۔
میں ایئرپورٹ سے براہ راست اپنا ایکریڈیشن کارڈ لینے ایس ایس سی چلا گیا جہاں آئرلینڈ اور عمان کے میچ کی وجہ سے سیکیورٹی سخت تھی،خیر رابطے پر میڈیا منیجر نے باہر آ کر مجھے کارڈ دے دیا ورنہ میچ ڈے پر کوئی بھی بغیر کارڈ کے اسٹیڈیم میں داخل نہیں ہو سکتا۔
چونکہ ویلنٹائن ڈے تھا اس لیے ہوٹل کے ریسٹورینٹ میں بیشتر جوڑے ہی نظر آئے، زیادہ تر خواتین سرخ لباس میں ملبوس تھیں، باہر بڑی اسکرین پر ورلڈکپ کے میچز بھی دیکھے جا رہے تھے، ہائی ٹی سے لطف اندوز ہونے کے بعد میں اپنے کمرے میں چلا گیا تاکہ اسٹوریز بھیج سکوں۔
اس سے قبل لابی میں ایک پاکستانی شائق سے ملاقات ہوئی جو دبئی سے میچ دیکھنے اپنے بھارتی دوستوں کے ساتھ کولمبو آیا تھا، میں نے ٹیم کے میڈیا منیجر نعیم گیلانی کو میسج بھیجا کہ کوئی بھی اپ ڈیٹ ہو تو بتایئے گا لیکن 2 دن گذر چکے ان کا جواب ہی نہیں آیا، شاید وہ محسن نقوی اور عامر میر سے بھی زیادہ مصروف ہیں۔
رات کو ڈنر میں ایک پاکستانی ریسٹورینٹ سے کھانا منگوایا جسے کھا کر دبئی بہت یاد آیا جہاں دنیا کے ہرملک کا بہترین کھانا باآسانی مل جاتا ہے، چند کرکٹرز سے بات ہوئی تو پتا چلا کہ چیئرمین نے بھی ٹیم سے ملاقات کر کے حوصلہ بڑھایا ہے۔
میچ سے قبل بھارتی پاکستانی اسپنر عثمان طارق سے حد سے زیادہ خوفزدہ نظر آئے، اسی لیے ایکشن کے معاملے پر محاذ کھول دیا گیا، دونوں ٹیموں کی الگ الگ اوقات میں پریکٹس ہوئی،اس سے قبل میڈیا کانفرنس میں سلمان علی آغا سے کئی سوالات عثمان پر ہوئے،وہ ان کا بھرپور دفاع کرتے رہے۔
گزشتہ کئی دنوں میں کرکٹ سے زیادہ محکمہ موسمیات کی ویب سائٹس دیکھی جاتی رہیں کہ میچ کے دن بارش ہو گی یا نہیں اس کا علم ہو سکے البتہ شکر ہے موسم بہتر ہو گیا۔
منتظمین نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ آغاز سے چار گھنٹے قبل دوپہر تین بجے ہی اسٹیڈیم کے دروازے کھول دیے جائیں گے تاکہ سیکیورٹی کے مراحل آسانی سے طے ہو سکیں،میں تو اس سے بھی کافی پہلے پہنچ گیا۔
دنیا میں کہیں بھی پاک بھارت میچ ہو آپ جتنی جلدی وینیو پر جا سکتے ہیں چلے جائیں تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو، آر پریماداسا اسٹیڈیم کے اندر اور باہر بہت زیادہ پولیس تھی میں نے کافی عرصے بعد کرکٹ میچ میں ایسے مناظر دیکھے۔
پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں الگ الگ ہوٹل میں قیام پذیر ہیں وہاں بھی سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے،میڈیا سینٹر میں اپنا لیپ ٹاپ رکھ کر طویل واک کے بعد میں دوبارہ اسٹیڈیم کے باہر گیا تاکہ شائقین سے میچ کے حوالے سے ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے لیے باتیں کر سکوں۔
وہاں کی روداد انشااللہ کل بتاؤں گا، ابھی براہ راست ٹاس پر لے چلتا ہوں، مجھے میری سورس سے صبح ہی علم ہو چکا تھا کہ انڈینز باز نہیں آئے اور اب پھر کپتانوں میں ہینڈ شیک نہیں ہوگا، یہ بات ٹاس کے موقع پر درست بھی ثابت ہو گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل ہمیشہ سخت باتیں کرنے والے ہربھجن سنگھ نے بھی صاحبزادہ فرحان کا انٹرویو لینے سے قبل ہاتھ ملایا تھا، سنجے منجریکر بھی نوہینڈ شیک کی اپنی ملکی پالیسی کو غلط قرار دے چکے۔
خیر میڈیا سینٹر میں ابھی یہ وائرس نہیں پہنچا اور دونوں ممالک کے جو صحافی ایک دوسرے کو جانتے ہیں وہ ہاتھ ملاتے نظر آئے،اس وقت تک اسٹیڈیم تقریبا بھر چکا اور انڈینز کی بڑی تعداد ان میں شامل ہے،پاکستانی بھی موجود ہیں لیکن اتنے زیادہ نہیں ، باقی رودارانشااللہ کل سناتا ہوں۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)