فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچوں کی نسل کشی جاری، بھارتی پراکسیز کا مکروہ چہرہ بے نقاب

فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچوں کی نسل کشی جاری ہے۔ بھارتی پراکسیز کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکاہے۔بلوچ عوام فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے بیانیہ کو مسترد کر کے بلوچ نسل کشی کیخلاف آواز اٹھانے لگے۔

فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں شہید ہونے والے بلیدہ کے نوید ہاشم کے اہلِ خانہ نے تربت میں اہم پریس کانفرنس کی ہے۔

فتنہ الہندوستان کے سفاک دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوید ہاشم کی ماں نے دکھ بھری داستان سناتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے میرے بیٹے کو اغوا کر کے 26 دن تک لاپتہ رکھا۔

فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے میرے بیٹے پر تشدد کیا اور اذیتیں دیکر شہید کر دیا۔انہوں نے کہا کہ شہید کرنے کے بعد میرے بیٹے کی لاش کو پیرکین میں پھینک دیا گیا۔کوئی بلوچ اپنے بھائیوں کے ساتھ ایسا کر ہی نہیں سکتا،ماوں کے دل مت توڑیں۔

شہید نوید ہاشم کی بہن کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے معصوم بچوں کو یتیم کر دیا۔

دہشتگردوں نے تین معصوم بچوں سے ان کے باپ کا سایہ چھین لیا۔یہ بات فتنہ الہندوستان کی طرف سے کی گئی ہے کہ ہم نے مارا ہے اور پھینک دیا ہے۔اگر اس طرح فتنہ الہندوستان بے گناہ لوگوں کو مار کر پھینک دیتی ہے تو یہ بلوچ قوم کی دوست نہیں۔

Similar Posts