دنیا اس وقت ایک ایسے غیر یقینی اور ہنگامہ خیز دور سے گزر رہی ہے جس میں طاقت کا توازن، سفارتی حکمت عملی اور عالمی نظم کی بنیادیں بیک وقت لرزتی محسوس ہوتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی جب کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل اور تباہ کن جنگ اس حقیقت کی نمایاں مثالیں ہیں کہ عالمی طاقتیں تنازعات کو سلجھانے کے بجائے اکثر انھیں طول دینے کا سبب بن جاتی ہیں۔ بظاہر سفارتی کوششیں جاری ہیں، مذاکرات کے ادوار منعقد ہو رہے ہیں اور بیانات میں امن کی خواہش کا اظہارکیا جا رہا ہے، مگر زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اعتماد کا فقدان سب سے بڑا بحران بن چکا ہے۔
حالیہ بیانات میں ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا اقتصادی پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہو تو ایران جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے بعض سمجھوتوں پر غور کرسکتا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر کچھ پابندیاں قبول کرنے کے بدلے مالی پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے، تاہم میزائل پروگرام یا دیگر دفاعی امور کو جوہری مذاکرات سے جوڑنے کی مخالفت کرتا ہے۔ یہ مؤقف ایران کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنے دفاعی ڈھانچے کو ناقابلِ گفت و شنید سمجھتا ہے۔ دوسری جانب امریکا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی محدود کرے اور طویل المدتی ضمانتیں فراہم کرے۔ اس اختلاف کی بنیاد میں دراصل خود مختاری اور سلامتی کا تصور ہے، جو دونوں ممالک کے لیے مختلف معنی رکھتا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کی تردید کرتا ہے، جب کہ مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ افزودگی کی بلند سطح مستقبل میں ہتھیار سازی کی صلاحیت فراہم کر سکتی ہے، اگرچہ مذاکرات کے نئے ادوار کی خبریں سامنے آ رہی ہیں اور ثالثی کے ذریعے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا دونوں فریق ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ایک پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکیں گے؟ اگر ایسا نہ ہوا تو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر عسکری تصادم کی شکل اختیار کرسکتی ہے، جس کے اثرات تیل کی عالمی منڈی، توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے عالمی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ 2022 میں شروع ہونے والا یہ تصادم یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا عسکری بحران سمجھا جاتا ہے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے متعدد مواقعے پر اس بات پر زور دیا ہے کہ یوکرین اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق کسی بھی امن معاہدے سے پہلے مکمل اور مؤثر جنگ بندی ناگزیر ہے، کیونکہ فعال جنگی صورتحال میں شفاف سیاسی عمل ممکن نہیں۔ انھوں نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے وقت کی حد مقررکرنا چاہتا ہے اور ممکنہ طور پر فریقین پر سفارتی یا معاشی دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔
روس کا مؤقف مختلف ہے۔ ماسکو کا دعویٰ ہے کہ نیٹو کی توسیع اور یوکرین کا مغربی اتحادوں کی طرف جھکاؤ اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تھا۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے یورپی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض یورپی رہنما روس کے ساتھ سنجیدہ مکالمے کے لیے تیار نہیں اور ان میں دور اندیشی کا فقدان ہے۔ یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ اطلاعاتی اور سفارتی محاذ پر بھی جاری ہے۔
انسانی اور عسکری لحاظ سے یہ جنگ انتہائی مہنگی ثابت ہوئی ہے۔ امریکی تھنک ٹینک Center for Strategic and International Studies کی رپورٹ کے مطابق روس کو بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جب کہ یوکرین کی معیشت، بنیادی ڈھانچہ اور شہری آبادی شدید متاثر ہوئی ہے۔ لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، شہروں کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا اور عالمی غذائی سپلائی چین متاثر ہوئی۔ اس کے باوجود کسی ایک فریق کو فیصلہ کن برتری حاصل نہیں ہو سکی۔ یہ حقیقت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ جدید جنگیں فوری اور مکمل فتح کی ضمانت نہیں دیتیں بلکہ طویل المدتی تھکن اور اقتصادی بوجھ کا باعث بنتی ہیں۔
امریکا اس جنگ میں یوکرین کا سب سے بڑا حامی رہا ہے، جس نے اسے فوجی سازوسامان، مالی امداد اور سفارتی حمایت فراہم کی۔ تاہم اس حمایت نے امریکا اور روس کے درمیان براہِ راست کشیدگی کو بھی بڑھایا ہے۔ ناقدین کے مطابق امریکا کی حکمت عملی روس کو کمزور کرنے پر مرکوز ہے، جب کہ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عالمی قوانین اور خود مختاری کے اصولوں کے دفاع کے لیے ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ حمایت جنگ کے خاتمے کو قریب لائے گی یا اسے مزید طول دے گی؟
ایران اور روس کے معاملات میں ایک مشترکہ پہلو یہ بھی ہے کہ دونوں ممالک مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور متبادل اقتصادی و سفارتی اتحادوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ پابندیاں وقتی دباؤ تو پیدا کرتی ہیں، مگر طویل مدت میں وہ عالمی نظام کو مزید تقسیم کر سکتی ہیں۔ جب ممالک متبادل مالیاتی نظام اور تجارتی راستے تلاش کرتے ہیں تو عالمی معیشت میں بلاکس بننے لگتے ہیں۔ یہ رجحان ایک کثیر قطبی دنیا کی تشکیل کا اشارہ ہے، جہاں طاقت چند ہاتھوں میں مرکوز نہیں رہتی بلکہ مختلف مراکز میں تقسیم ہو جاتی ہے۔
عالمی اداروں کی مؤثریت بھی اس پس منظر میں سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر کثیرالجہتی فورمز اکثر بڑی طاقتوں کے اختلافات کی وجہ سے فیصلہ کن کردار ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ویٹو پاور کا استعمال اور سیاسی تقسیم عالمی اتفاقِ رائے کو مشکل بنا دیتی ہے۔ نتیجتاً تنازعات کا حل سفارتی اصولوں کے بجائے طاقت کے توازن پر منحصر ہو جاتا ہے۔
یہ صورتحال امریکا کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا کو جو عالمی برتری حاصل تھی، وہ اب پہلے جیسی غیر متنازع نہیں رہی۔ چین کا عروج، روس کی مزاحمت اور علاقائی طاقتوں کی خود مختاری نے عالمی سیاست کو پیچیدہ بنا دیا ہے، اگر امریکا اپنی قیادت کو شراکت داری اور کثیرالجہتی تعاون میں تبدیل نہیں کرتا تو اس کی پالیسیوں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح روس اور ایران کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ عسکری طاقت کے بجائے سفارتی لچک کا مظاہرہ کریں، کیونکہ طویل تنازعات داخلی معیشت اور سماجی استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔
دنیا اس وقت ایک عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے۔ پرانا عالمی نظام کمزور ہو رہا ہے مگر نیا نظام ابھی پوری طرح تشکیل نہیں پایا۔ اس خلا میں تنازعات بڑھنے کا خطرہ بھی ہے اور ایک نئے متوازن نظام کی تشکیل کا موقع بھی۔ اگر ایران اور امریکا باہمی احترام اور قابلِ عمل ضمانتوں کے ذریعے جوہری تنازعے کو حل کر لیتے ہیں اور اگر روس اور یوکرین جنگ بندی اور سیاسی فریم ورک پر متفق ہو جاتے ہیں، تو یہ عالمی سفارت کاری کے لیے ایک مثبت مثال ہو سکتی ہے، لیکن اگر یہ کوششیں ناکام ہوئیں تو دنیا مزید تقسیم، اقتصادی دباؤ اور عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کی سیاست وقتی کامیابی تو دے سکتی ہے، مگر دیرپا امن صرف اعتماد، شفافیت اور تسلسل سے ہی ممکن ہے۔ ایران اور یوکرین کے بحران ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ عالمی قیادت کا اصل امتحان میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے، اگر عالمی طاقتیں اپنے مفادات کو مکمل بالادستی کے بجائے مشترکہ استحکام کے تناظر میں دیکھیں تو تنازعات کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر دنیا ایک طویل غیر یقینی دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں جنگیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں بلکہ منجمد تنازعات کی صورت میں جاری رہتی ہیں اور عالمی نظام مسلسل دباؤ میں رہتا ہے۔ یہی وہ چیلنج ہے جس کا سامنا آج کی دنیا کر رہی ہے اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں دانشمندانہ قیادت تاریخ کا رخ متعین کر سکتی ہے۔