کمیشن کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن، چھیپا ویلفیئر اور دیگر متعلقہ ریسکیو اداروں کو طلب کیا گیا ہے تاکہ واقعے سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کی جاسکیں۔
جوڈیشل کمیشن نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ 18 فروری کو کمیشن کے سامنے پیش ہوں اور واقعے سے متعلق اپنا مؤقف اور ریکارڈ فراہم کریں۔
کمیشن کے مطابق ریسکیو حکام کے بیانات بھی قلم بند کیے جائیں گے تاکہ سانحہ گل پلازہ کی مکمل تحقیقات ممکن بنائی جاسکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جاسکے۔
گزشتہ روز سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی پہلی سماعت جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے دفتر میں ہوئی تھی۔ اس موقع پر کمیشن کے ممبران اور متاثریں موجود تھے۔
کمیشن کی پہلی سماعت ہوئی میں 23 متاثرین نے بیانات قلم بند کیے گئے تھے، لوگ بیان دیتے ہوئے روپڑے اور انہوں ںے امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، عینی شاہدین نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا آگ بجھانے کے لیے جدید آلات ہی نہیں تھے، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، سانحے میں سراسر غلفت کا مظاہرہ کیا گیا۔