ان تنظیموں نے ایک مشترکہ خط میں خبردار کیا کہ نئی اصلاحات کے تحت رکن ممالک کو غیر دستاویزی تارکینِ وطن کی نشاندہی کا پابند بنایا جا سکتا ہے، جس سے عوامی مقامات، نجی جگہوں اور سرکاری خدمات کو امیگریشن کنٹرول کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ خط میں پولیس چھاپوں اور نسلی امتیاز (ریشل پروفائلنگ) پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔
تنظیم PICUM کی نمائندہ مشیل لی ووائے نے کہا کہ یورپ کو امریکا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے یورپ میں ویسی ہی پالیسیاں نہیں اپنانی چاہئیں۔
یورپی کمیشن کی جانب سے پیش کی گئی اصلاحات میں ایسے مراکز قائم کرنے کی تجویز شامل ہے جو یورپی یونین سے باہر ہوں اور جہاں مسترد شدہ پناہ گزینوں کو رکھا جا سکے۔ ان مراکز کو “ریٹرن ہبز” کہا جا رہا ہے۔
مجوزہ پالیسی کے تحت یورپ چھوڑنے سے انکار کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں، طویل حراست اور شناختی دستاویزات کی ضبطی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
یہ اصلاحات یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک کی حمایت حاصل کر چکی ہیں، تاہم یورپی پارلیمنٹ میں بائیں بازو کے ارکان اور مہاجرین کے حقوق کی تنظیمیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بنیادی انسانی حقوق کے دائرے میں رہتے ہوئے کیے جا رہے ہیں اور یورپ میں عوام کی اکثریت ان کی حمایت کرتی ہے۔