جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فراح جمشید نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے آئی جی پولیس سے استفسار کیا کہ اب تک سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف کتنے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئین ہر شہری کو آزادانہ نقل و حرکت کا حق دیتا ہے اور سڑکوں کی بندش سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنان نے انبار انٹرچینج پر موٹر وے جبکہ اٹک پل کے قریب جی ٹی روڈ پر دھرنا دے رکھا ہے، جس سے بین الصوبائی رابطے متاثر ہوئے ہیں اور عام شہریوں، مریضوں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
عدالت نے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور آئی جی پولیس ذوالفقار کو طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بتایا جائے سڑکیں کھولنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔
آئی جی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ تین دن سے سڑکیں بند ہیں، پہلے 14 مقامات پر احتجاج تھا جو اب کم ہو کر 6 پوائنٹس تک رہ گیا ہے۔ انہوں نے دو دن کی مہلت طلب کی تاہم عدالت نے فوری اقدامات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ موٹر وے کسی صورت بند نہیں ہونی چاہیے۔
جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی خراب ہے، ایسے میں سڑکوں کی بندش عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان کھلا ہے اور خیبرپختونخوا بند ہے، یہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف اقدام ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ آج ہی سڑکیں کھولی جائیں اور کل رپورٹ پیش کی جائے۔ بعد ازاں سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔
دوسری جانب، مسلم لیگ (ق) خیبر پختونخوا نے بھی موٹر ویز اور دیگر سڑکوں کی بندش کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی۔ مرکزی ترجمان مسلم لیگ (ق) مصطفیٰ ملک کے مطابق مسلم لیگی رہنما بلال محمد زئی کی جانب سے محمد انتخاب خان چمکنی ایڈووکیٹ نے رٹ پٹیشن دائر کی۔
رٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ روڈ بندش کے باعث شہریوں، مسافروں اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور صوبائی حکومت کی سرپرستی میں سڑکیں بند ہیں۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے فوری نوٹس لے کر سڑکوں کی بندش ختم کرانے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔
مصطفیٰ ملک نے کہا کہ یہ کیسی حکومت ہے جو اپنے ہی عوام کے راستے بند کر کے بیٹھی ہے۔ ان کے مطابق انتخاب خان اور بلال محمد زئی نے عدالت کے سامنے عوام کا مقدمہ رکھا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ عدالت فوری حکم نامہ جاری کر کے عوام کو مشکلات سے نکالے گی۔