ایڈیشنل سیشن عدالت شرقی نے خاتون کے اغوا، جبری شادی اور زیادتی کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے سابق شوہر سمیت 8 ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، گواہوں کے بیانات مشکوک ہیں۔
پراسیکیوشن کے مطابق 2018 میں خاتون کو گھر کے قریب سے اغوا کیا گیا اور بے ہوش کر کے زیادتی کی گئی، ملزمان نے بھائی کو قتل کرنے کی دھمکی دیکر خاتون سے زبردستی شادی کی، ملزمان نے خاتون کو ملتان ڈسٹرکٹ کورٹ لے جا کر خالی کاغذات پر انگوٹھا لگوایا اور والد کیخلاف بیان ریکارڈ کرایا گیا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ خاتون کی بھابھی نے بیان دیا کہ خاتون اپنی مرضی سے گھر سے گئی تھی، مدعیہ کی والدہ کے بیان میں بھی تضادات ہیں، اگر کسی نے 2018 میں اغوا ہوتے دیکھا تھا تو ایک ماہ تک خاموشی ناقابل فہم ہے، لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں دائر حبسِ بے جا درخواست میں اغوا کا ذکر نہیں کیا گیا تھا، سابق شوہر غضنفر حسین نے دفاع میں مدعیہ کے اصل تعلیمی کاغذات پیش کیے۔
ملزم نے موقف دیا کہ وہ خود شادی کی درخواست لے کر آئی تھی، اگر اغوا ہوا ہوتا تو مدعیہ اصل تعلیمی دستاویزات ساتھ نہ لاتیں۔ ملزمان کیخلاف فیروزآباد تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔