بانی تحریک انصاف اس وقت حکومت کی تحویل میں ہیں۔ وہ ایک قیدی ہیں۔ اس لیے صرف بانی تحریک انصاف ہی نہیں تمام قیدیوں کا علاج اور ان کی صحت کا خیال رکھنا حکومت کی ذمے داری ہے۔ اس ضمن میں ملک کے قوانین واضح ہیں۔ جب تک عدالت بانی تحریک انصاف کو علاج کے لیے ضمانت پر رہا نہیں کرتی تب تک علاج حکومت کی ذمے داری ہے اور حکومت کی نگرانی میں ہی علاج ہونا ہے۔ اس لیے حکومت کو اپنی ذمے داریاں ادا کرنی چاہیے۔
اب سیاست کی بات کر لیں۔ سیاست میں تحریک انصاف نے اس ضمن میں حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی۔ ایک سیاسی دباؤ بنانے کی کوشش کی گئی اور ایک عوامی دباؤ بنانے کی کوشش کی گئی۔ پہلے عوامی دباؤ کی بات کر لیتے ہیں۔ تحریک انصاف نے بانی تحریک انصاف کی صحت پر عوامی احتجاج کی کال دی۔
ان کے پاس نعرہ بھی اچھا تھا کہ بانی کی 85فیصد بینائی ختم ہوگئی ہے، حکومت نے علاج میں کوتاہی کی ہے۔ اس لیے آنکھ کے ضایع ہونے پر تحریک انصاف عوامی جذبات کو ابھارنے اور لوگوں کو سڑکوں پر آنے کا کہہ رہی تھی۔ احتجاج کی باقاعدہ کال دی گئی۔ اب جائزہ اس بات کا لینا ہوگا کہ عوامی احتجاج کی کال کتنی کامیاب رہی ۔سڑکیں بند کرنے کا جائزہ اس کے بعد لیتے ہیں۔ کیونکہ پہلی کال پریس کلبوں کے باہر احتجاج کی تھی۔
تحریک انصاف کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ پاکستان کی مقبول ترین جماعت ہے۔ پھر کے پی کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہاں نوے فیصد لوگ تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔ دو تہائی مینڈیٹ بھی موجود ہے۔ لیکن یہ دیکھا گیا کہ تحریک انصاف واضح کال کے باوجود کسی بھی پریس کلب کے آگے کوئی موثر احتجاج نہیں کر سکی۔ پنجاب میں تو احتجاج ہوا ہی نہیں۔ لیکن پنجاب کے حوالے سے تو تحریک انصاف کے پاس یہ بہانہ ہے کہ یہاں حکومت احتجاج نہیں کرنے دیتی۔
حالانکہ میں اس کو ایک کمزور توجیح مانتا ہوں۔ احتجاج ہوتا ہے حکومت کو چیلنج کرتے ہیں۔ کونسی حکومت احتجاج کی کھلم کھلا اجازت دیتی ہے۔ لیکن چونکہ پنجاب کے حوالے سے ایک توجیح موجود ہے۔ اس لیے پنجاب میں کوئی احتجاج نہ ہونے کو اس توجیح کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔
لیکن سوال تو کے پی کا بھی ہے۔ کے پی میں تو حکومت کا کوئی خوف نہیں، وہاں تو حکومت احتجاج نہیں روکتی بلکہ وہاں کی حکومت اور پولیس تو تحریک انصاف کے احتجاج کی مکمل سہولت کاری کرتی ہے۔ وہاں تو گرفتاری کا بھی کوئی خوف نہیں۔ اس لیے وہاں کے احتجاج کا جائزہ لینے پر تو تحریک انصاف کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ پشاور میں تو چند سو لوگ بھی نہیں تھے۔ باقی شہروں میں بھی کہیں ایک سو دو سو سے زائد لوگ کہیں جمع نہیں ہوئے۔ تحریک انصاف یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس کی کال پر ہزاروں لوگ احتجاج کے لیے باہر نکل آئے۔ اس لیے پہلے دن احتجاج کی کال ناکام رہی۔ اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے دھرنے میں بھی ارکان پارلیمنٹ تھے، عوام نہیں تھے۔ اسی طرح قومی اسمبلی کے تو اندر ہی دھرنا دیا گیا۔
اس لیے اس سوال کا جواب ضرور دیا جانا چاہیے کہ عوام باہر نہیں آئے۔ آپ نے 85 فیصد بینائی ختم ہونے کا بیانیہ بنایا۔ لیکن لوگ باہر نہیں آئے۔ کیا لوگوں کو اب تحریک انصاف کے سیاسی بیانیوں پر اعتبار نہیں۔ ان کو اندازہ ہوگیا کہ تحریک انصاف جھوٹ کی بنیاد پر بیانیہ بناتی ہے۔ ان کا سوشل میڈیا بھی جھوٹ بولتا ہے۔ اس لیے لوگوں نے 85فیصد بینائی ختم ہونے پر یقین نہیں کیا اور عوام کو پہلے دن سے یقین تھا کہ علاج ٹھیک ہو رہا ہے۔ دوسرا کیا کہ تحریک انصاف کی مقبولیت ختم ہوگئی ہے۔ لوگ تحریک انصاف سے دور ہو گئے ہیں۔ اس لیے احتجاج میں نہیں آئے۔ لوگوں کا بانی تحریک انصاف سے رشتہ کمزور ہوگیا ہے۔
بہرحال کئی عوامل پر بحث ہو سکتی ہے۔ لیکن بات صاف ہے کہ کہیں بھی عوام کی بڑی تعداد احتجاج کے لیے نہیں نکلی۔ عوام میں کوئی غم و غصہ نظر نہیں آیا، عوام نارمل نظر آئے ہیں۔ اب سڑکیں بند کرنے کا جائزہ لیتے ہیں۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں کوئی سڑکیں بند نہیں ہوئیں۔ کے پی میں سڑکیں بند ہوئی ہیں۔ تحریک انصاف نے کال دے کر، کے پی کو دوسرے ملک سے ملانے والی سڑکیں بند کی ہیں۔ صوابی انٹر چینج سے موٹر وے بندکی گئی، جی ٹی روڈ بند کی گئی اور بھی کئی سڑکیں بند کی گئی ہیں۔لیکن صوابی انٹر چینج جس کو بند کیا گیا سوال یہ ہے کہ وہاں کتنے لوگ تھے۔ آپ نے اپنے کارکنوں کو زبردستی بلایا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا عوام نے سڑکیں بند کیں یا پھر تحریک انصاف کے کارکنوں نے پولیس اور انتظامیہ کی آشیر باد سے سڑکیں بند کی ہیں۔
کہیں کوئی دس ہزار لوگ نہیں تھے۔ چند سو لوگ موجود تھے جو ان کے کارکن تھے۔ سوال یہ بھی ہے کہ سڑکیں بند کرنے میں بھی عوام نہیں آئے۔ کسی سڑ ک پر دس ہزار پچاس ہزار لوگوں نے دھرنا نہیں دیا ۔ جتنے لوگ تھے اتنے لوگ ایک کونسلر بھی اکٹھا کر لیتا ہے۔ اسی لیے تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر کا ایک ٹوئٹ میں نے پڑھا، انھوں نے کہا جو ہزاروں لوگ مجھے سڑکیں بند کرنے کے لیے میسج کر رہے ہیں وہ سب صوابی انٹر چینج پہنچیں۔ لیکن وہاں تو چند سو بھی بمشکل تھے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عوام نے سڑکیں بند نہیں کیں۔ تحریک انصاف کی حکومت اور ان کے سرکاری سیاسی کارکنوں نے سڑکیں بند کیں۔ لوگ نہیں آئے۔
ویسے یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ سڑکیں بند کرنے کا فیصلہ ایک غیر مقبول فیصلہ تھا۔ کے پی لوگ ہی تنگ ہوئے، عوام کو مشکلات ہوئی ہیں۔ کے پی کے لوگوں کا سڑکیں بند کرنے سے دس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے سڑکیں کھلوا دی ہیں۔ حالانکہ یہ کام پولیس کو ہائی کورٹ کے حکم کے بغیر ہی کرنا چاہیے تھا لیکن پولیس خاموش تماشائی رہی ۔ کے پی بند کرنے کا جو ایک کارڈ تحریک انصاف کے پاس تھا، وہ بھی ختم ہوگیا۔
اب جیت ہار کا فیصلہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں۔ میں نے تصویر کے دونوں پہلو سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے دلائل بھی آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ بہترین فیصلہ آپ ہی کا ہے۔