امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل میں سیکیورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور شہریوں کو بنکرز کے قریب رہنے کی ہدایات دے دی گئی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق دفاعی اور ہنگامی اداروں کو ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو اس کے جواب میں ایران اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اسی تناظر میں شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، قریبی بنکرز اور محفوظ مقامات سے باخبر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسرائیلی حکام نے سیکیورٹی اداروں کو الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کے لیے تمام انتظامات مکمل رکھنے کا حکم دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر ملک بھر میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
اُدھر اسرائیلی اور امریکی حکام نے امریکی ویب سائٹ ایکسِیوس کو بتایا کہ جاری تیاریوں کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی گئی ہے کہ سفارتی کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ یہ کارروائی غالب امکان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ مہم ہو گی۔
رپورٹ کے مطابق اگر امریکا فوجی اقدام کرتا ہے تو وہ محض محدود نوعیت کا حملہ نہیں ہوگا بلکہ ہفتوں پر محیط ایک وسیع آپریشن ہو سکتا ہے، جو عملی طور پر ایک ہمہ گیر جنگ کے قریب ہوگا۔ اس کارروائی میں ایران کے جوہری اور میزائل تنصیبات کے ساتھ ساتھ نظام سے وابستہ سکیورٹی اداروں کو بھی بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن سے موصول ہونے والی بعض اطلاعات کے مطابق حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا اور امریکی انتظامیہ کو مزید وقت درکار ہو سکتا ہے۔
امریکی ریپبلکن سینیٹر لِنڈسی گراہم کا کہنا ہے کہ ممکنہ حملے چند ہفتوں کے اندر ہو سکتے ہیں، تاہم ایکسِیوس کے مطابق بعض دیگر رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ مدت اس سے بھی کم ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بیک وقت مذاکرات اور فوجی دباؤ کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
ٹرمپ کے مشیروں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکاف نے جنیوا میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ دونوں فریقوں نے مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ دیا، تاہم امریکی حکام نے اعتراف کیا کہ اختلافات بدستور موجود ہیں۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے بعض سرخ لکیریں مقرر کی ہیں جنہیں تسلیم کرنے یا ان پر بات چیت سے تہران اب تک گریزاں ہے۔ نائب صدر نے اشارہ دیا تھا کہ صدر ٹرمپ کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں ضرور ہیں، تاہم اگر نمایاں پیش رفت نہ ہوئی تو سفارت کاری اپنی فطری حد کو پہنچ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ مذاکرات کا حالیہ دور 6 فروری کو ہونے والے پہلے دور کے بعد منعقد ہوا، جسے دونوں جانب سے مثبت قرار دیا گیا تھا، جبکہ تیسرا دور آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے۔