تیاری مکمل، رواں ہفتے کے آخر میں ایران پر حملہ ہوسکتا ہے: امریکی میڈیا کا دعویٰ

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اس ہفتے کے اختتام تک ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کو بریفنگ دی گئی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ دنوں میں فضائی اور بحری اثاثوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے اور فوج کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے تیار ہے۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور انہوں نے نجی طور پر فوجی کارروائی کے حق اور مخالفت دونوں پہلوؤں پر بحث کی ہے۔ وہ اپنے مشیروں اور اتحادیوں سے بھی مشاورت کر رہے ہیں تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔

ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ صدر اس معاملے پر کافی وقت صرف کر رہے ہیں اور ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ ویک اینڈ تک کوئی فیصلہ کریں گے یا نہیں۔

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں اعلیٰ قومی سلامتی حکام کا اجلاس ہوا جس میں ایران کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی روز صدر کو خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر نے ایران کے ساتھ ہونے والی بالواسطہ بات چیت کے بارے میں بریفنگ دی۔

یہ بات چیت جنیوا میں ہوئی جہاں ایرانی اور امریکی مذاکرات کاروں نے ساڑھے تین گھنٹے تک نوٹس کے تبادلے کے ذریعے گفتگو کی، تاہم کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ایرانی مذاکرات کاروں نے کہا کہ کچھ رہنما اصولوں پر اتفاق ہوا ہے جبکہ ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ ابھی بہت سی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ایران آئندہ چند ہفتوں میں اپنے مؤقف کی مزید تفصیلات پیش کرے گا، تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی واضح ڈیڈ لائن دینے سے انکار کیا۔

انہوں نے کہا کہ سفارت کاری صدر کی پہلی ترجیح ہے، لیکن فوجی آپشن بھی زیر غور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائی کے حق میں مختلف دلائل موجود ہیں اور صدر قومی سلامتی ٹیم کے مشوروں کو اہمیت دے رہے ہیں۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 28 فروری کو اسرائیل کا دورہ کریں گے جہاں وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کر کے ایران سے متعلق بات چیت پر تبادلہ خیال کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی بحری بیڑہ یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ بھی اس ہفتے خطے میں پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں تعینات امریکی فضائیہ کے طیاروں، بشمول ری فیولنگ ٹینکرز اور لڑاکا جہازوں، کو بھی مشرق وسطیٰ کے قریب منتقل کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران بھی اپنی جوہری تنصیبات کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی کی سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ایران اہم مقامات کو کنکریٹ اور مٹی کی موٹی تہوں سے محفوظ بنا رہا ہے۔

عالمی حالات بھی ممکنہ فیصلے کے وقت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ سرمائی اولمپکس اتوار کو اختتام پذیر ہو رہے ہیں جبکہ رمضان المبارک کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔

بعض اتحادی ممالک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مقدس مہینے میں حملہ خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ اگلے ہفتے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب بھی کرنے والے ہیں، جس میں ملکی معاملات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی دروازے بند نہیں ہوئے، لیکن فوجی تیاریوں اور بیانات نے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ تصادم کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ فی الحال حتمی فیصلہ صدر کے ہاتھ میں ہے اور آئندہ چند دن صورتحال کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

Similar Posts