رمضان المبارک کا پہلا عشرہ شروع ہوتے ہی عمرہ زائرین کی تعداد میں معمول کے مطابق اضافہ ہو گیا جس کا فوری فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام ملکی و غیر ملکی ایئر لائن نے اپنے کراؤ میں اضافہ کر دیا۔
ہر سال عمرہ زائرین کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے پہلے عشرہ کی نسبت دوسرے اور تیسرے عشرے میں یہ تعداد تو بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ملکی اور غیر ملکی ائیر لائن نے رش کے باعث اپنے کراؤ میں اضافہ کر دیا۔
معمول کے مطابق کرایہ اکانومی اور اکانومی پلس کا ایک لاکھ تیس چالیس ہزار تھا جو بڑھ کر ایک لاکھ 80 ہزار سے لے کر دو لاکھ تک پہنچ گیا جبکہ بزنس کلاس کا کرایہ سواء چار لاکھ ہ سے لے کر ساڑے 4 لاکھ روپے تھا جو اب پانچ لاکھ تک پہنچ چکا ہے۔
ٹریول ایجنٹ محمد ایوب کے مطابق کراؤں میں اضافہ عمرہ زاہرین کے رش کے باعث ہوا ہے جب بھی کوئی تہوار یا سیزن اتا ہے رش بڑھتا ہے تو ایئر لائن اپنے کرائے میں اضافہ کر دیتی ہیں تمام ایئر لائنوں کی بکنگ فل ہے یہی وجہ ہے کہ بکنگ نہیں مل رہی جو سیٹیں خالی ہیں ان کے کرائے میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ایجنٹ تو وہی وصول کرتے ہیں جو ایئر لائن کرایہ مقرر کرتی ہیں رمضان المبارک میں کیونکہ لوگ عمرہ کرنے زیادہ جاتے ہیں اس لیے کرائے میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔
عمرہ پر جانے والے عامر امتیاز بلال کے مطابق اب مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے لیے بھی سوچنا پڑھ گیا ہے کہ کریں یا نہ کریں عام لوگ تو اب عمرہ کا سوچتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں عمرہ ساڑے چار لاکھ سے پانچ لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے۔
ہم نے دو ماہ پہلے بکنگ کرائی تھی تو ایک لاکھ تیس ہزار کی ٹکٹ تھی ہمارے دوسرے بھائی نے اب کرائی ہے تو ٹکٹ ایک لاکھ اسی ہزار کی ملی ہے اب اس بات کا خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مہنگائی کہاں تک پہنچ چکی ہے