انسانی اسمگلنگ میں ملوث بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب

زیمبیا سے ایتھوپیا کے راستے آنے والے متعدد پاکستانی مسافروں کو مشتبہ سرگرمیوں پر حراست میں لے لیا گیا۔ 

ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران انکشاف ہوا کہ مذکورہ افراد وزٹ ویزوں پر افریقی ممالک (تنزانیہ/ملاوی) گئے جہاں سے ایجنٹس کے ذریعے غیر قانونی راستوں سے تنزانیہ → زیمبیا → زمبابوے کے ذریعے جنوبی افریقہ بھجوایا گیا۔

انسانی اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک میں گجرات، سیالکوٹ اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے ایجنٹس ملوث ہیں جنہوں نے بھاری رقوم (لاکھوں روپے اور ہزاروں امریکی ڈالر) وصول کر کے مسافروں کو غیر قانونی بارڈر کراسنگ پر مجبور کیا۔

 دورانِ سفر زیمبیا کے شہر لیونگ اسٹون میں مقامی پولیس نے انہیں گرفتار کر کے جیل بھیجا۔ سزا مکمل ہونے کے بعد انہیں پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔

مزید انکشاف ہوا کہ بعض ایجنٹس نے جنوبی افریقہ کے بعد اسپین بھجوانے کے نام پر بھی خطیر رقوم طلب کیں اور متاثرین کے اہل خانہ سے اضافی رقوم ہتھیائیں۔

تمام مسافروں کو مزید قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے ملزمان کے نام یہ ہیں:

ہارون دانش

زین العابدین

محمد آفتاب 

عدیل پرویز

علی حمزہ

Similar Posts