ایکسپریس نیوز کے مطابق سید مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی کا اجلاس معنقد ہوا۔ اجلاس میں گیس کے معاملات پر بات ہوئی۔
سوئی گیس حکام نے انکشاف کیا کہ سوئی ناردرن کا گیس چوری اور نقصانات سے 30 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔
ایم این اے گل اصغر خان نے کہا کہ گیس کی چوری کے نقصان کے 30 ارب روپے صارفین پر ڈالے جاتے ہیں، صنعتی صارفین گیس چوری کرتے ہیں اور اسے گھریلو صارفین سے وصول کیا جاتا ہے۔
سوئی گیس حکام نے کہا کہ اوگرا کی مقررہ حد تک نقصانات صرف صارفین پر ڈالتے ہیں، ترقیاتی یافتہ ممالک میں بھی گیس سیکٹر میں یو ایف جی 6 فیصد تک ہوتی ہے جب کہ سوئی سدرن کا گیس چوری کا معاملہ 10 فیصد سے زائد ہے، سوئی سدرن سے 30 بی سی ایف گیس چوری ہورہی ہے، سوئی سدرن سے بھی سالانہ 30 ارب روپے کی گیس چوری اور نقصانات ہورہے ہیں۔
اجلاس میں قائمہ کمیٹی میں پٹرولیم کمپنیوں کے انرجی ٹریننگ فنڈز کا معاملہ زیر بحث آیا۔
سید نوید قمر نے کہا کہ جس مقصد کے لیے رقم جمع ہوئی اس کے لیے استعمال نہیں ہوئی، پالیسی سازی نہ ہونے سے وجہ سے یہ نااہلی سامنے آ رہی ہے، ٹریننگ فنڈ پر صوبوں کو بھی کمیٹی میں بلا کر پوچھنا چاہئیے۔
پیٹرولیم حکام نے کہا کہ ہم اس پر کام کر رہے ہیں تاکہ رقم کے استعمال کا کوئی پلان بنا سکیں۔ اس پر نوید قمر نے کہا کہ آخر کب تک پلان بنائیں گے؟ ہم اپنا صبر کھو رہے ہیں۔