کارل مارکس نے بھی کچھ اسی قسم کے حقائق سے آگہی کے بعد میڈیا کے اس پہلو پر سخت تنقید کی، کارل مارکس کے یہ خیالات ’’ ذرائع ابلاغ کا مارکسی نظریہ‘‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔کارل مارکس کا کہنا ہے کہ دنیا میں سرمایہ داری کا نظام ایک ظالمانہ نظام ہے جس میں سرمایہ دار طبقہ، عام طبقے کا استحصال کرتا ہے اور میڈیا اس کا بھرپور ساتھ دیتا ہے۔ کارل مارکس کا خیال ہے کہ سرمایہ دار اس قدر مضبوط ہیں کہ میڈیا ان کے خلاف کچھ نہیں کرتا اور نہ ہی کچھ کرسکتا ہے بلکہ وہ سرمایہ داروں کی فرماں برداری کرتا ہے۔
کارل مارکس کا یہ بھی کہنا ہے کہ میڈیا کے مشتملات (contents) کو سرمایہ دار طبقہ اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے، میڈیا اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے مگر حقیقت میں میڈیا سیاسی، معاشی اور معاشرتی مشتملات میں سرمایہ دارانہ طبقے کے زیر اثر ہے، چنانچہ میڈیا ایک ایسی سوچ کو بڑھاتا ہے جس سے استحصالی نظام کو تقویت ملتی ہے۔ مارکس کے ان نظریات کے بعد جدیدی مارکسی (Neo-Marxist) نے بھی میڈیا پر تنقید کی اور میڈیا کے بعض پہلوؤں پر اور بھی سخت تنقید کی ہے۔ جدید مارکسی گروپ نے برطانیہ میں ٹریڈیونین کی عوام میں مقبولیت کم ہوجانے کی وجہ جاننے کے لیے ایک تحقیق کی۔ اس تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ٹریڈ یونین کی عوام میں مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ میڈیا پر جانبدارانہ انداز میں پیش کی جانے والی خبریں تھیں۔
اسی طرح Therodore adnono اور Max Horkheimer کے مطابق دنیا میں جو روشن خیالی پیدا ہونی تھی، اس کو ذرائع ابلاغ نے اپنی روش سے یک طرفہ بربریت میں بدل ڈالا۔ ان کے خیال کے مطابق ذرائع ابلاغ مخالفانہ رائے کو دبا دیتے ہیں، مارشل میکلو ہنی میڈیا کے کردار کے متعلق اپنی کتاب ’’انڈراسٹینڈنگ میڈیا، دی ایکسٹینشن آف مین‘‘ میں لکھتا ہے کہ آج کی دنیا میں لسانی اور سماجی جبریت سے بھی بڑا جبر یہ ٹیکنالوجی ہے، مزید آگے وہ لکھتا ہے کہ ذرائع ابلاغ پر جو خیالات اور طریقے ہائے وغیرہ نمایاں جگہ پالیتے وہی افراد اور معاشرے پر غلبہ بھی حاصل کر لیتے ہیں، یوں میڈیا جس نظر سے دنیا کو دکھانا چاہتا ہے لوگ اسی نظر سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔
یہ خیالات ماضی کی نامور شخصیتوں کے تھے، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ میڈیا کی آج کیا صورتحال ہے؟ جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں نہ صرف میڈیا کی آزادی کی بات بھی کی جاتی ہے اور ہیومن رائٹس کی بھی بات کی جاتی ہے۔ اس سوال کا جواب موجودہ دورکا ’’ غزہ‘‘ اور اسرائیل ہے۔
غزہ میں جوکچھ ہورہا ہے۔ اس کی تمام تر خبریں میڈیا پر نہیں آرہی ہیں اور دنیا بھرکا ’’مین اسٹریم میڈیا‘‘ جس طرح اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے، اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ ماضی کی مذکورہ بالا شخصیات کے میڈیا کے بارے میں جو خیالات تھے، اب بات اس سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ محض ایک چھوٹے سے ملک اسرائیل نے سی این این، بی بی سی جیسے بڑے میڈیا اداروں کو بھی اپنی مٹھی میں لیا ہوا ہے، دنیا بھر کا میڈیا غزہ میں ہونے والے مظالم کی آدھی تصویر بھی پیش نہیں کر رہا ہے۔
چنانچہ غزہ کے لوگوں نے از خود میڈیا کا یہ محاذ سنبھال لیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں اسرائیل کے ظلم و ستم کو پہنچایا جس سے عالمی سطح پر اسرائیل اور اس کے دوستوں کی نہ صرف سخت بدنامی ہوئی بلکہ سخت عوامی ردعمل بھی سامنے آیا، مغربی ممالک میں عوام کا سمندر سڑکوں پر نظر آتا ہے، جو اپنی اپنی حکومتوں پر زور ڈال رہے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون فورا ختم کیا جائے۔حالیہ خبروں کے مطابق برطانوی صحافی اور کارکن سمیع حمدی نے الجزیرہ نیٹ ورک (قطر) پر 7 فروری 2026 کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ صہیونی ادارہ‘‘ کو سوشل میڈیاخریدنے پر مجبورکیا گیا کیونکہ سوشل میڈیا پر فلسطین کے حامی صارفین نے، فلسطینی مقبولیت کو اسرائیل سے کہیں زیادہ کردیا تھا۔
امریکی اب مین اسٹریم ذرائع ابلاغ جیسے CNN یا The New York Times پر انحصار نہیں کرتے ہیں بلکہ اس کے بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو خریدا اور صہیونی خاتون باری ویسbari weiss،کو CBS کے سربراہ پر رکھا گیا تاکہ امریکی عوام تک معلومات کے بہاؤکوکنٹرول کیا جاسکے ،اور غزہ سے متعلق خبروں کو روکا جا سکے۔ ان اقدامات کی وجہ سے 2 سے 30 لاکھ امریکیوں کو نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم UpScrolled پر منتقل ہونا پڑا۔‘‘
درحقیقت اسرائیل عالمی میڈیا کو اپنے نہ نظر آنے والے دباؤ میں لے چکا ہے۔ بظاہر میڈیا آزاد نظر آتا ہے مگر وہ اسرائیل کے لیے ہر قسم کے پروپیگنڈے کی خدمات انجام دے رہا ہے۔ مثلاً جنسی مجرم جیفری اپسٹین کہانی لے لیجیے، دنیا بھرکے مین اسٹریم میڈیا میں اس نے طوفان اٹھا دیا، ایک کے بعد ایک شخصیت بے نقاب کی جا رہی ہے، مگر اسرائیل کے سیاسی اور انٹیلی جنس حلقوں کی تمام شخصیات محفوظ ہیں حالانکہ اس جنسی مجرم کے ان سے بھی روابط تھے۔
ایک وقت تھا کہ جب عراق کے صدام حسین کو کچلنے کے لیے مین اسٹریم میڈیا میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ عراق میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور موجود ہیں بعد میں یہ بات غلط بھی ثابت ہوئی لیکن آج اسرائیل میں تھرمو بریک ہتھیاروں کو استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے انسانی جسم پگھل کر ہوا میں ہی تحلیل ہو رہے ہیں۔
ایسے گھناؤ نے جرم پر عالمی مین اسٹریم میڈیا خاموش بیٹھا ہے جو ایران کے ایٹمی پروگرام پر بھی اس طرح پروپیگنڈا کرتا ہے جیسے اس پروگرام سے نہ جانے کتنی ہلاکتیں ہوگئی ہوں۔ یوں دیکھا جائے تو امریکا کے بعد اسرائیل بھی صرف مین اسٹریم میڈیا ہی نہیں، سوشل میڈیا کو بھی اپنی سخت گرفت میں لے چکا ہے اور اس پلیٹ فارم پر ایسا خودکار نظام لاگوکردیا گیا ہے کہ جس کی موجودگی میں مظلوم فلسطینیوں کے لیے جو بھی خبر یا آواز بلند ہوتی ہے، بلاک ہوجاتی ہے۔