خیال رہے کہ اس پوری مہم جوئی میں جہاں صدر ٹرمپ اسرائیل کی سرپرستی کرتے رہے اسے ہر قسم کی امداد فراہم کر کے اس کے بے رحمانہ اور غیر انسانی اقدامات پر نہ صرف خاموش تماشائی بنے رہے بلکہ اس کی کھلم کھلا حمایت فرماتے رہے اور جب ان کے خیال میں غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی تو ان کے اندر نہ جانے کہاں سے انسانیت جاگ اٹھی۔
اب وہ رعونت کے ساتھ غزہ کی تباہی کی دھمکیاں چھوڑ کر اس کی ازسر نو آبادکاری کے چیمپئن بنے بیٹھے ہیں اور غزہ امن بورڈ قائم کرکے اس کے خودساختہ صدر بن گئے ہیں۔
گرگٹ کی طرح بدلتے ہوئے اس انداز سیاست کے دوران ایک طرف وہ ایران سے جنگی زبان میں گفتگو کرتے رہے، وہیں پاکستان کی مدح سرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ انھوں نے عوامی جلسوں میں پاکستان کی تعریف کی۔پاکستان کی یہ تعریف و توصیف بے معنی نہ تھی۔ پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور اس کے منہ آنا مصلحت کے خلاف تو ہے ہی اس سے خود امریکا کو بھی نقصان کا خدشہ تھا۔ مگر سب سے بڑی بات یہ تھی کہ امریکا پاکستان کو اپنے جال میں پھانس کر اس کی قوت توانائی کو زائل کرنا چاہتا تھا مگر پاکستان بھی اپنے کارڈ بڑی دانش مندی سے کھیل رہا ہے اور اپنا امیج بہتر بنا رہا ہے۔
غزہ امن بورڈ کے قیام کا اعلان ہوتے ہی بین الاقوامی ماحول میں ہلچل کی کیفیت پیدا ہوئی۔ کچھ لوگ امریکی موقف سے خوفزدہ ہوکر اس کے ساتھ شامل ہونے سے گریزاں تھے مگر ’’ امن بورڈ‘‘ کا نام ایسا تھا کہ اس سے علیحدگی بھی ان کے لیے مفید نہیں تھی۔ پاکستان بھی ہچکچاہٹ کا شکار رہا مگر یہاں امریکی صدر کی پاکستان سے غیر ضروری ہمدردی اور اس کی توصیف و تعریف کام کر گئی۔ کافی غور و خوض کے بعد پاکستان نے امن بورڈ کے قیام میں شامل ہونے کی حامی بھر لی۔
مگر پاکستان نے اپنی چند شرائط بیان کیں اورکہا کہ وہ ان شرائط کے ساتھ امن بورڈ میں شامل ہوگا۔ وہ شرائط کچھ اس قسم کی تھیں کہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر غیر قانونی قبضے سے دست بردار ہو اور اہل غزہ کو ان کے علاقوں میں ازسرنو آباد کیا جائے اور اہل غزہ کی نسل کشی روکنے کی ضمانت دی جائے۔
یہ سب کچھ پاکستانی مطالبات تھے ، ان پر عمل ہوگا یا نہیں یہ تو امن بورڈ آگے چل کر طے کرے گا کیونکہ اس وقت ان مطالبات پر عمل درآمد کی گارنٹی دینے والی کوئی طاقت موجود نہیں اور جو آگے چل کر سامنے آئے گی وہی تو اہل غزہ کی تباہی و بربادی اور فلسطینی ریاست کے قیام کا سب سے بڑا روڑا ہے۔
بہرحال پاکستان صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت اور امریکا سے اپنے تعلقات بہتر بنا رہا ہے، اس نے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا مشروط اعلان کر دیا، فی الوقت ان شرائط کے رد و قبول کرنے کی کوئی اتھارٹی موجود نہیں۔ ادھر صدر ٹرمپ اہل غزہ کی سرکوبی کرنے کے بعد اب امن کے پیامبر بنے بیٹھے ہیں۔ نو سو چوہے مکمل ہو گئے اب بلی حج کو چل پڑی۔
روس اور چین نے امن بورڈ کے قیام کے سلسلے میں بہت محتاط رویہ رکھا ہے وہ نہ اس بورڈ سے علیحدہ رہے ہیں نہ اس میں شامل ہوئے ہیں بلکہ بددلی کے ساتھ اس میں شرکت کر رہے ہیں۔
امن بورڈ کا پہلا اجلاس 14 فروری کو واشنگٹن میں ہو رہا ہے۔ گویا طے ہو گیا کہ اہل غزہ کی قسمت کے فیصلے اب واشنگٹن میں ہوا کریں گے۔ روس نے بورڈ کے پہلے اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ چین ویسے ہی بددلی کا شکار ہے، گویا۔
پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے
جہاں تک مسلم ممالک کا تعلق ہے مشرق وسطیٰ کی چھوٹی بڑی ریاستیں کسی گنتی شمار میں نہیں اور وہ پہلے سے امریکا کی باج گزار ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان کی آواز کی اہمیت ہو سکتی تھی سو ترکیہ کا ہمیں علم نہیں، پاکستان صدر ٹرمپ کی تعریف و توصیف سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔امریکا سے بہتر تعلقات کے باعث خطے میں پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری طرف تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایسی یک طرفہ فضا میں کیا اہل غزہ پھر سے آباد ہو سکیں گے، کیا ان کے وطن پر اسرائیل کی دست درازیاں ختم ہو سکیں گی؟ جب کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیل جنگ بندی کی درجنوں خلاف ورزیاں کر چکا ہے اور صدر امریکا سمیت کسی نے اس سے نہیں پوچھا کہ جنگ بندی کس چڑیا کا نام ہے۔ اب یہ نام نہاد امن بورڈ کا قیام امن کا ضامن ہوگا یا اہل غزہ کی محرومیوں پر کیل نہیں سریے ٹھونکنے کا سبب بنے گا؟