جنگ ایک منافع بخش صنعت ہے

اسلحہ تاجروں کے سبب جنگیں ختم نہیں ہوں گی اور یہ تاجر جنگوں کے سبب زندہ رہیں گے۔ان تاجروں کا سب سے بڑا دشمن امن ہے۔ جنگ ان کی حیات اور سکون موت ہے۔ میں کوئی بہکی بہکی گفتگو نہیں کر رہا بلکہ گذشتہ ماہ اسلحے کی تجارت پر ناقدانہ نگاہ رکھنے والے سرکردہ عالمی ادارے اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( سپری ) کی تازہ رپورٹ پڑھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں ۔

اس رپورٹ میں اسلحہ اور جنگی خدمات فراہم کرنے والی ایک سو عالمی کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان سو کمپنیوں نے دو ہزار چوبیس میں چھ سو اناسی ارب ڈالر کا اسلحہ اور عسکری خدمات بیچ کر دو ہزار تئیس کے مقابلے میں لگ بھگ چھ فیصد زائد منافع کمایا۔ ایک سبب یوکرین اور غزہ کا بحران بھی ہے۔ علاقائی و عالمی کشیدگی اور ٹرمپ کی پالیسیوں کا رولر کوسٹر کسی اور کے لیے فائدہ مند ہو نہ ہو اسلحے کے سوداگروں کے لیے ایک نئی لہلہاتی فصل ہے۔

 فہرست میں شامل انتالیس امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں میں سے تیس منافع میں رہیں اور کیک کا بڑا حصہ تین بڑی کمپنیوں ( لاک ہیڈ مارٹن ، نارتھروپ گرومین ، جنرل ڈائنامکس ) کے حصے میں آیا۔تینوں اسلحہ ساز بہنوں نے دیگر ستانوے کمپنیوں کے برابر یعنی چھ سو اناسی بلین میں سے تین سو چونتیس بلین ڈالر کا مال بیچ کر تقریباً چار فیصد زائد اوسط منافع کمایا۔حالانکہ ان کمپنیوں کے ایف تھرٹی فائیو لڑاکا طیارے ، کولمبیا اور ورجینیا کلاس آبدوزوں سینٹینل بین البراعظی میزائیل جیسے ’’ بگ ٹکٹ ‘‘ منصوبوں کو مالی مشکلات اور بروقت ڈلیوری میں رکاوٹوں کا بھی سامنا رہا۔

ارب پتی ایلون مسک سال دو ہزار تئیس میں پہلی بار اسلحہ سازی کے میدان میں اترے۔اگرچہ وہ اس گلاکاٹ مسابقت کے میدان میں نووارد ہیں پھر بھی انھوں نے دو ہزار تئیس کے مقابلے میں دوگنا آئٹم بیچ لیے جن کی مالیت ایک اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر بنتی ہے۔

یورپ کی چھبیس میں سے تئیس اسلحہ ساز کمپنیوں نے منافع کمایا۔ انکی دو ہزار چوبیس کی مصنوعاتی فروخت دو ہزار تئیس کے مقابلے میں تیرہ فیصد زیادہ رہی۔انھوں نے کل ملا کے ایک سو اکیاون بلین ڈالر کے ہتھیاری سودے کیے۔

سو بڑی کمپنیوں کی فہرست میں شامل چیکو سلوواک گروپ نے یوکرین کو تین اعشاریہ چھ بلین ڈالر مالیت کے توپ گولے بیچ کر ایک ہی برس میں ایک سو ترانوے فیصد منافع کمایا۔خود جنگ زدہ یوکرین کی اپنی اسلحہ انڈسٹری بھی تیزی سے پھل پھول رہی ہے۔سالِ انیس سو چوبیس میں اس نے تین ارب ڈالر کمائے۔یہ رقم دو ہزار تئیس کے مقابلے میں اکتالیس فیصد زائد ہے۔

یورپ میں اب سرد جنگ دوم یہ کہہ کر بیچی جا رہی ہے کہ بہت جلد روس یوکرین کے بعد دیگر یورپی ممالک کو نشانہ بنائے گا لہذا یورپ کو امریکا کے وعدوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے خود پر تکیہ کرنا پڑے گا۔ یورپ پر مستقبِل قریب میں کسی بڑے حملے کا امکان بظاہر یوں نہیں کہ یورپ کی دو بڑی قوتیں ( برطانیہ اور فرانس) بھی روس کی طرح جوہری اسلحے سے لیس ہیں۔

 اگر یوکرین اور روس کے درمیان ٹرمپ کی کوششوں سے موجودہ سال کے دوران پائیدار جنگ بندی کا کوئی سمجھوتہ ہو جاتا ہے تو قوی امکان ہے کہ روس کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں میں بتدریج نرمی کی صورت میں یورپ ایک بار پھر روسی تیل اور گیس کا بڑا خریدار بن جائے گا۔ایسے میں روس کیوں اپنی پابندی زدہ معیشت کے پاؤں پر کلہاڑی مارے گا۔

مگر اسلحہ ساز کمپنیوں کے لیے یہ سوچ ہی نعمت سے کم نہیں کہ یورپ خود کو روس کے مقابلے میں غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔یہ خوف یورپی اسلحہ ساز کمپنیوں کے کانوں کو نغمہ ہے اور کون نہیں جانتا کہ خوف میں سرمایہ کاری سے زیادہ منافع بخش کاروبار اور کیا ہو گا ؟

اسلحہ ایسی شے ہے جس کی مانگ اقتصادی پابندیوں کے باوجود کبھی کم نہیں ہو سکتی۔ثبوت یہ ہے کہ ایک سو عالمی کمپنیوں میں شامل دو روسی کمپنیاں(روسٹیک اور یونائیٹڈ شپ بلّبگ کارپوریشن) بھی بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود منافع کما رہی ہیں۔ دونوں کمپنیوں نے دو ہزار چوبیس میں اکتیس ارب ڈالر کمائے جو دو ہزار تئیس کے مقابلے میں تئیس فیصد زائد ہیں۔

البتہ ایشیا و برالکاہل خطے کی شرح منافع میں ایک اعشاریہ دو فیصد کمی کے باوجود ایشیائی اسلحہ ساز کمپنیوں نے اکتیس ارب ڈالر کمائے۔منافع میں کمی کا ایک سبب سو کمپنیوں کی فہرست میں شامل آٹھ چینی کمپنیوں کو درپیش اوسطاً دس فیصد خسارہ ہے۔ ایک بڑی چینی کمپنی نورینکو نے تو اس مدت میں اکتیس فیصد خسارے کا سامنا کیا۔ چینی حکومت اسلحے کی خرید و فروخت میں کرپشن کی شکایات کا پہلے سے زیادہ نوٹس لے رہی ہے کیونکہ متعدد ممالک نے کرپشن کی شکایات منظرِ عام پر آنے کے بعد اسلحے کے سودے منسوخ یا معطل کر دیے۔

البتہ تائیوان چائنا کشیدگی میں اضافے اور شمالی کوریا کے جوہری ارادوں کے بارے میں غیر یقینی نے مشرقِ بعید کے خطے میں احساس ِ عدم تحفظ کو بڑھاوا دیا ہے۔چنانچہ چین کی بڑھتی طاقت سے خوفزدہ آس پاس کے ممالک اور روس سے ڈرنے والے یورپ کو جاپان اور جنوبی کوریا کی اسلحہ ساز کمپنیوں نے اکتیس فیصد زائد مالیت ( چودہ ارب ڈالر ) کا اسلحہ بیچا۔یوں جنوبی کوریا کی سب سے بڑے اسلحہ ساز ہینواہ گروپ نے اپنی آمدنی میں بیالیس فیصد اضافہ کیا۔

پہلی بار مشرقِ وسطی سے متحدہ عرب امارات کے ایج گروپ سمیت نو کمپنیوں نے ایک سو بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کی فہرست میں اپنے لیے جگہ بنائی۔انھیں عسکری ٹیکنالوجی کی فروخت سے دو ہزار چوبیس میں چودہ فیصد زائد یعنی اکتیس ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی۔اس فہرست میں تین اسرائیلی کمپنیاں بھی شامل ہیں جنھوں نے اپنے ہتھیار غزہ کی انسانی لیبارٹری میں ٹیسٹ کیے اور پھر اس جنگی تجربے کو مارکیٹ کرتے ہوئے ساڑھے سولہ ارب ڈالر کا اسلحہ اور متعلقہ ٹیکنالوجی فروخت کی۔ اس مدت کے دوران اسرائیلی کمپنی ایلبیت سسٹمز نے چھ ارب اٹھائیس کروڑ ڈالر ، اسرائیل ایروسپیس انڈسٹریز نے پانچ ارب انیس کروڑ ڈالر اور رفائل نے چار ارب سات کروڑ ڈالر کا اسلحہ بیچ کر جیب بھاری کر لی۔کون کہتا ہے کہ جنگ خسارے کا سودا ہے؟

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

Similar Posts