اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز لگوانے اسلام آباد ہائی کورٹ آئے ہیں، 13 ماہ سے ہم آرہے ہیں، اس چیف جسٹس کو لایا ہی اس لیے گیا تاکہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز مقرر نہ ہوسکیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ بھی آئے ہیں، یہ چیف جسٹس اٹھ کر بھاگ جاتے ہیں، ایک دفعہ میں بھی عدالت میں کھڑی ہوئی تو چیف جسٹس اٹھ کر چلے گئے، یہ کرسی عوام کو انصاف دینے کے لیے ہے، دنیا بھر میں عدالتیں ایسی نہیں ہوتی، بانی پی ٹی آئی کی صحت اور کیسز ہمارا مسئلہ ہے،محسن نقوی نے کہا کہ پارٹی ہمارے ساتھ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر فیصلہ کرنا پارٹی کا نہیں ہمارا مینڈیٹ ہے، آئندہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ہماری اجازت کے بغیر نہیں ہوگا، بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق ہمارے ساتھ حسین اخونزادہ رابطے میں تھا، ہم نے اس سے کہا کہ ٹی وی پر شفاء اسپتال کیوں چل رہا ہے جب کہ ہم تو الشفاء ہسپتال کا کہہ رہے ہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں معلوم ہورہا تھا کہ ایجنسی کے بندے ڈاکٹرز کے پاس جارہے ہیں، حسنین اخونذادہ نے کہا کہ محسن نقوی نے گارنٹی دی ہے کہ الشفاء ہسپتال جائیں گے اور ڈاکٹرز اور اہلہ خانہ بھی ساتھ ہوں گے، ہم نے ڈاکٹر عاصم اور عظمی خان کا نام دیا، ہمیں پیغام ملا کے بہنیں نہیں جاسکتیں، ہم نے ڈاکٹر برقی کا نام دیا پھر کہا وہ بھی قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا گیا ڈاکٹر عاصم بھی قبول نہیں اس کے بعد پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، ہمیں معلومات تب ملیں جب رات کو ڈاکٹر عاصم سے بات ہوئی، ہمیں بتایا نہیں گیا کچھ، سپریم کورٹ میں کیس تھا۔
ہمارے ڈاکٹرز نے الشفاء کا مشورہ دیا تو پارٹی کس طرح کوئی فیصلہ کر سکتی ہے، ہمیں بے خبر رکھا گیا کہ جیل میں علاج کیاجارہا ہے، سپریم کورٹ کی کاروائی پوری کرنے کے لیے بانی پی ٹی آئی کو فارغ کرادیا، محسن نقوی کہہ رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج کرایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی آکر تردید کیوں نہیں کرتا کونسا علاج ہوا ہے، کوئی پارٹی والا آکر بتاتا کیوں نہیں کہ محسن نقوی نے کیا یقین دہانی کرائی تھی، ڈاکٹرز صرف معائنے کے لیے گئے تھے، بانی پی ٹی آئی نے پیغام بھیجا ہے کہ میرے ڈاکٹرز سے میڈیکل رپورٹس چیک کرائیں، پارٹی والے بتائیں وہ کیا کر رہے ہیں، جب ہم اسپتال کا مطالبہ کر رہے تھے تو انہوں نے جیل بھجوادیا۔
علیمہ خان نے کہا کہ پارٹی کا کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ بانی کی صحت پر ہماری اجازت کے بغیر کوئی بات کرے، پارٹی کے اندر کوئی مداخلت نہیں ہمارے بھائی کی صحت کا سوال ہے، بانی پی ٹی آئی نے وکلاء کو ٹکٹ دیے،بانی پی ٹی آئی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ جاکر میرے کیسز لگوائیں۔
آج سینئر وکلا اور ٹکٹ ہولڈر کہاں ہیں؟، حامد خان، علی ظفر، لطیف کھوسہ کہاں ہیں؟، بیرسٹر گوہر صحت کی اتنی فکر کر رہے تھے سب معاملات دیکھ رہے تھے وہ کہاں ہیں، محسن نقوی نے جو بات ٹی وی پر کہی اس کی ویریفیکشن ہمیں بھی چاہیے، محسن نقوی نے کہا کہ میں علاج میں رکاوٹ تھی کسی نے آکر اس بات کی وضاحت نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ پمز کے علاوہ کوئی علاج نہیں ہوا، ہم اب بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ الشفاء ہسپتال میں علاج کرایا جائے، ہم نے پارٹی کو روکا نہیں ہمارے ساتھ مشاورت یا اجازت کے بغیر صحت کے معاملے پر کچھ نہ کریں، ہم نے پارٹی کو بتادیا تھا کہ آنکھ کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے، ہمیں جیل میں جانے کا نہیں معلوم تھا نہ ہمیں بتایا گیا، پارٹی نے صحت سے متعلق جو فیصلہ کیا وہ ہم سے چھپایا گیا۔
علیمہ خان نے کہا کہ پارٹی جائے اور بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے لڑے، بانی پی ٹی آئی کا ایکسپرٹ سے علاج کرایا جائے، ہمیں محسن نقوی سے معلوم ہوا کہ بیرسٹر گوہر بھی جیل جارہے تھے بیرسٹر گوہر نے ہمیں نہیں بتایا، ہمیں بتا دیں ہمیں محسن نقوی سے معلومات ملے گی یاپارٹی سے۔
https://www.youtube.com/watch?v=9op6NgjU-aM