پی ٹی آئی سے مذاکرات چاہتے ہیں، سیاسی حل ہی ایمرجنسی سے بچا سکتا ہے: بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں موجودہ حالات کے تناظر میں سیاسی حل کی کوشش ہونی چاہیے تاکہ ایمرجنسی جیسے اقدامات کی ضرورت پیش نہ آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی پی ٹی آئی سے بات چیت اور اسے مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرنا چاہتی ہے، جب کہ سیاسی بحران کو دہشت گردی اور قومی مفاد کے معاملات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔

کراچی میں پاکستان کے پہلے ’ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج کل اسلام آباد میں بہت کچھ ہورہا ہے اور گزشتہ 10 دن سے دارالحکومت بند پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی آئین میں موجود ہیں، تاہم ان کا خیال تھا کہ اس سے پہلے ’آئینی ایٹمی بم‘ کا استعمال کیا جائے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی کوشش ہونی چاہیے کہ سیاسی حل تلاش کیا جائے تاکہ ایمرجنسی جیسے اقدامات کی ضرورت نہ پڑے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں پی ٹی آئی سے بات کرنے کی اجازت دی جائے اور اسے مذاکرات پر قائل کرنے کی کوشش کرنے دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات تمام صوبوں اور جمہوریت کے مفاد میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی بحران کو دہشت گردی اور قومی مفاد کے معاملات سے الگ رکھنا چاہیے اور امید ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اس بات کا احساس کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی حل سامنے آتا ہے تو ایمرجنسی جیسے اقدامات نہیں کرنا پڑیں گے۔

خیبر پختونخوا کی صورتِ حال کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ صوبے اور بلوچستان میں دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا رہا ہے، جب کہ افغانستان کی جانب سے بھی حملے ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ سب مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں اور اسے سیاست کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت پیپلزپارٹی کے ساتھ رابطے میں تھی اور اسی تناظر میں وفاقی حکومت نے اپنا ذہن بنا لیا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانا چاہتی تھی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور وفاقی حکومت کے درمیان دہشت گردی کے مقابلے کے لیے تحریری معاہدہ ہونا چاہیے اور ایمرجنسی کی صورتِ حال کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی کنٹرول نہ ہوئی تو شاید مجبوراً ایمرجنسی کی طرف جانا پڑے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پیپلزپارٹی کی ریڈ لائن ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے سیاسی سطح پر کافی کامیابی حاصل کی، آپ کی توجہ سیاست پر ہے اور خیبر پختونخوا میں ہر دوسرے دن دہشت گردی ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو حالات ہیں وہ اچھے نہیں ہیں اور حالات بگڑیں گے تو کراچی پر بھی اثر پڑے گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاسی استحکام ہوگا تو دہشت گردی کا بھی مقابلہ کیا جائے گا اور عوامی منصوبے بھی بنیں گے۔

کراچی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی منی پاکستان ہے اور ہم ہر شہر اور صوبے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات بگڑیں گے تو اس کے اثرات کراچی پر بھی پڑیں گے، اس لیے سیاسی استحکام ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کو آج مبارک باد پیش کرتا ہوں، کراچی میں پہلے کبھی ایسے کام نہیں ہوئے، جب کہ کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ترقیاتی کام تیزی سے ہو رہے ہیں اور صاف پانی گھر گھر پہنچانے کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میئر کراچی عوام کو سہولتوں کی فراہمی کے لیے بہترین کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا افتتاح کرکے خوشی ہورہی ہے اور کراچی کے لیے ایسے منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے گا۔

کیماڑی ٹریٹمنٹ پلانٹ ون کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ وفاق میں بیٹھے ساتھی کراچی پر تبصرے کرتے ہیں، تاہم ہم کراچی کی خدمت کریں گے، یہ ہمارا شہر ہے، کسی اور کا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقوق سے محروم رکھ کر عوام کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے۔

Related posts