کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنیوالا طالبعلم گرفتار

0 minutes, 0 seconds Read

کولمبیا یونیورسٹی کے خلیل نامی طالب علم کو فلسطین کے حق میں مظاہر کرنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے۔

فلسطین کے حق میں تعلیمی اداروں میں احتجاج کرنیوالے طلبا کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر انتقامی کارروائیوں کا آغازہوگیا۔

نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی سے فلسطینی محمود خلیل کو آئی سی اے سمیت دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے حراست میں لے لیا ہے۔

فیڈرل امیگریشن اتھارٹیز کا کہنا ہے کہ وہ اس اسٹوڈنٹ کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ایجنٹوں میں سے ایک نے فون پر بتایا ہے کہ وہ دفتر خارجہ کے ایک حکم پر عمل کر رہے ہیں۔ تاکہ خلیل کا آسٹوڈنٹ ویزا ختم کیا جا سکے۔

اٹارنی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ خلیل کے پاس مستقل رہائشی کے طور پر گرین کارڈ ہے۔ وکیل کے مطابق اس کا گرین کارڈ بھی منسوخ کیا جا رہا ہے۔

محمد خلیل کے وکیل ایمی گریر نے پریس کو بتایا کہ محمد خلیل کولمبیا یونیورسٹی کے ملیکتی اپارٹمنٹ میں موجود تھا جب ”مین ہٹن“ کیمپس میں متعدد امیگریشن اور کسٹم انفورسمنٹ ایجنٹس اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے اور اسے گرفتار کر لیا۔

واضح رہے یہ گرفتاری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ملکی اسٹوڈنٹس کو گرفتار کرنے اور ”ڈی پورٹ“ کے اس حکم سے متعلق ہے جو احتجاج میں شرکت کرنے والے غیر ملکی اسٹوڈنٹس کے بارے میں جاری کیا ہے۔

دوسری طرف کولمبیا یونیورسٹی نے ایک نظرثانی شدہ پروٹوکول جاری کیا کہ طالب علموں اور اسکول کے عملے کو امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے ایجنٹوں سے کیسے پیش آنا چاہئیے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ عدالتی گرفتاری کے وارنٹ کے بغیر آئی سی ای ایجنٹوں کو ”ضروری حالات“ میں تعلیمی ادارے کی نجی جائیداد میں داخل ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

کولمبیا کے اسٹوڈنٹ ورکرز نے اپنے بیان میں کہا، ”کیمپس میں آئی سی ای کو داخلے کی اجازت دے کر، کولمبیا ملک بھر کی یونیورسٹیوں پر ٹرمپ انتظامیہ کے حملے کے سامنے ہتھیار ڈال رہا ہے اور بین الاقوامی طلباء کو اپنے مالیات کی حفاظت کے لیے قربان کر رہا ہے۔“

کولمبیا یونیورسٹی کے ایک ترجمان نے کہا ’ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایجنٹس کو یونیورسٹی میں داخل ہونے سے پہلے وارنٹ پیش کرنا لازمی ہوتا ہے

اس واقعے کے بارے میں دفتر خارجہ اندرونی سلامتی کے ادارے اور ’آئی سی ای‘ نے اس فلسطین کے حامی کی گرفتاری کے بارے میں چاہنے کے باوجود تبصرہ نہیں کیا ہے۔

خیال رہے محمد خلیل امریکی کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کی حمایت میں چلنے والی تحریک کا سب سے نمایاں چہرہ بن چکے ہیں۔

محمد خلیل نے کولمبیا یونیورسٹی کے جنگ مخالف طلبہ کی نمائندگی کرتے ہوئے یونیورسٹی کے منتظمین سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

ان کی وکیل ایملی گریر کے مطابق محمد خلیل کی بیوی جو آٹھ ماہ کی حاملہ ہیں، کو شوہر کی حراست کے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے۔

Similar Posts