صدر ٹرمپ مذاکراتی عمل میں ایران کے رویے سے ناخوش

امریکا اور ایران کے درمیان عمان کی ثالثی میں جاری جوہری مذاکرات تیسرے دور میں داخل ہوگئے لیکن تاحال کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جوہری مذاکرات میں ایران کے طرزِ عمل سے خوش نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ وہ فوجی کارروائی نہیں چاہتے لیکن بعض اوقات ایسا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ میں ایسا (ایران پر حملہ) نہیں کرنا چاہتا لیکن کبھی نہ کبھی آپ کو یہ کرنا پڑجاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ایران مذاکرات میں واضح طور پر یہ کہنے سے گریز کر رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کم از کم میرے دور میں تو بالکل نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تاہم صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ الٹی میٹم دے چکے ہیں کہ جوہری مذاکرات کے لیے ایران کے پاس 10 سے 15 دن ہیں۔

 

 

Similar Posts