وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حقانی صاحب آپ کی ماضی کی جنگوں میں سوویت یونین کے خلاف پاکستان دل وجان سے آپ کے ساتھ کھڑا تھا ۔ آپ ہمارے مہمان رہے آپ کے خاندانوں کی مہمان نوازی کی۔ تب کے لاکھوں مہمانوں میں لاکھوں ابھی بھی پاک سر زمین پہ پناہ گزین ہیں۔ ہماری پاک مٹی سے رزق کماتے ہیں۔ آپ بھی بمعہ خاندان ہمارے مہمان رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوویت یونین کے خلاف ہم نے مل کے جنگ لڑی۔ آپکا اور ہمارا ایک ہی ہدف تھا اور یہ ہدف آپکو اور ہمیں امریکا نے دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آپ کے بزرگوں سے لیکر تین نسلوں کی مہان نوازی کی ہے ۔ صلہ کیا ملا آپ ہمارے قاتلوں کو پناہ دیں، معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کو سینے سے لگائیں ۔ ہمارے گلی محلوں کو خون سے رنگین کرنے والوں کے حلیف بنیں۔
انہوں نے حقانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں کابل گیا آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔ ایک درخواست کی تھی ہمارے دشمنوں کے حلیف نہ بنے اعانت نہ کریں۔ آپ نے رقم ما نگی ہم وہ بھی دینے کو تیار تھے مگر ضمانت کوئی نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ جس نسبت سے آپ کو حقانی پکارا جاتا ہے وہ بہت عظیم بزرگ تھے ۔ اس نام کی ہی لاج رکھیں۔ ہم آپ سے کچھ بھی نہیں مانگتے۔ آپ اپنے گھر راضی رہیں ہم اپنے گھر راضی ہیں۔