ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر پر حملوں کی اطلاعات؛ برطانوی میڈیا

ایران کے دارالحکومت سمیت کئی شہروں میں متعدد شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جس میں غیر مصدقہ طور رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کا صدارتی دفتر بھی شامل ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق ایران کے جن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں کرمانشاہ، قم، اصفہان، تبریز، کرج اور جنوبی علاقے کنارک شامل ہیں۔

ان شہروں میں ایرانی بحریہ کی تنصیبات سمیت فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جب کہ کرد شہر کامیاران میں پاسدارانِ انقلاب کے مرکز پر بھی بمباری کی گئی ہے۔

بی بی سی کو تہران کے نرماک محلے سے حاصل ہونے والی تصاویر میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کی رہائش گاہ کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جسے حملے میں تباہ کردیا گیا۔

بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تصاویر سے یہ واضح نہیں کہ سابق صدر احمد نژاد زخمی ہوئے ہیں یا نہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے نجی دفتر اور صدارتی دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ 

ادھر ایرانی وزارتِ داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ایرانی شہریوں کے لیے پیغام میں خبردار کیا گیا ہے کہ فوجی مقامات اور تنصیبات کے قریب سے نکل جائیں، ان مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اپنے وطن کے دفاع میں ہر قسم کا اسلحہ اور تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔

وزیر دفاع نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملکی سلامتی پر کسی دھونس دھمکی اور جبر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔

 

Similar Posts