پاک افغان کشیدگی!

0 minutes, 0 seconds Read
ایک دنیا اس بات سے آگاہ ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف ملک کی معیشت کو اربوں روپے کے نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہیں بلکہ کراچی تا خیبر پورا ملک بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ بالخصوص وطن عزیز کے دو اہم صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا بیرونی مداخلت اور دہشت گردوں کے نشانے پر جہاں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

پڑوسی ملک افغانستان سے در اندازی کرنے والے دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے کے پی کے اور بلوچستان میں نہ صرف عام لوگوں اور مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ دہشت گردوں کی سرکوبی کی ذمے داریاں نبھانے والے سیکیورٹی فورسز کے قافلوں، گاڑیوں، چیک پوسٹوں اور فوجی افسروں و جوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران دہشت گردوں نے اسلام آباد میں خودکش حملہ کیا بعدازاں جنوبی وزیرستان کے علاقے لوئر دیر، وانا اور کے پی کے کے مختلف علاقوں ضلع کوہاٹ، بنوں اور بکھر وغیرہ میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹڈ کلنگ کرکے پولیس اور فوج کے جوانوں و افسران کو شہید کر دیا تھا۔ دوسری جانب پاک افغان سرحد پر دو طرفہ فائرنگ اور جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

حکومت پاکستان نے اعلیٰ ترین سطح پر تمام سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے افغانستان کی طالبان حکومت کو تواتر کے ساتھ باور کرایا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو استعمال کرنے سے باز رہے، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد افغان سرزمین سے پاکستان میں در اندازی کرکے دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں لہٰذا طالبان حکومت اپنی ذمے داری پوری کرے بصورت دیگر پاکستان اپنی قومی سلامتی، دفاع اور چوبیس کروڑ عوام کے تحفظ کے لیے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا۔

حکومت نے افغان حکومت کو پاکستان میں ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی کے ٹھوس ثبوت اور شواہد بھی فراہم کیے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ طالبان حکومت نے پاکستان کی گزارشات پر کوئی توجہ نہ دی اور بھارت کی پراکسی بتا کر پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی آماج گاہ بنا دیا۔ پاکستان کے پاس اب آخری اقدام رہ گیا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں، پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنا کر اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنائے اور پاک سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کرے۔ نتیجتاً پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے باہمی مشاورت سے افغانستان کے خلاف چار و ناچار آپریشن ’’غضب للحق‘‘ کا آغاز کیا جو تادم تحریر جاری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان کے مختلف علاقوں کابل، قندھار اور پکتیا وغیرہ میں اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بالکل درست کہا کہ پاکستان افغانستان پر یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ دہشت گرد یا پاکستان کسی ایک کا انتخاب کرلیں۔ یہ المیہ ہے کہ طالبان نے نیٹو افواج کی واپسی اور دوحہ امن مذاکرات کے نتیجے میں عنان حکومت سنبھالنے کے بعد معاہدات اور وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔ سب سے بڑا عہد یہ کیا گیا تھا کہ طالبان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا اور آج افغان سرزمین پر مختلف النوع شرپسند عناصر اور دہشت گرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 ہزار سے 23 ہزار دہشت گردوں پر مشتمل ملیشیا موجود ہے جن میں نصف سے زائد غیر ملکی ہیں، یہ دہشت گرد تنظیمیں علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق داعش، ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں جن کا ہدف علاقائی سلامتی کو سبوتاژ کرنا ہے۔ پاکستان پہلے ہی ان خطرات سے طالبان حکومت کو آگاہ کر چکا ہے۔ پاک افغان جاری جنگ پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی ہے چین، برطانیہ، روس، سعودی عرب، قطر وغیرہ نے سفارتی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ جب کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ ٹھیک کر رہا ہے، وہ مداخلت نہیں کریں گے۔ افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ نے اپیل کی ہے کہ پاکستان مذاکرات سے مسئلہ حل کرے، ہم بات چیت پر آمادہ ہیں جو خوش آئند امر ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک افغان مذاکرات اب عالمی برادری کی ثالثی میں ہونے چاہئیں۔ طالبان حکومت دنیا کو یقین دہانی کرائے کہ اس کی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور افغانستان میں سرگرم عمل تمام دہشت گرد تنظیمیں اور گروہ اور ان نیٹ ورکس اور تربیتی مراکز کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ طالبان رجیم کی ٹھوس ضمانتیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے عملی اقدامات ہی علاقائی سلامتی کے ضامن ہیں۔ خود افغانستان کی داخلی سلامتی اور پڑوسی ملک پاکستان سے اچھے روابط کی ضمانت بھی اسی میں ہے کہ طالبان دوحہ مذاکرات میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔

Similar Posts