ماہ رمضان میں مہنگائی … ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف زیرو ٹالرنس!!

0 minutes, 0 seconds Read
ماہ رمضان میں مہنگائی اور حکومتی اقدامات کے موضوع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت، تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا۔ ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

کرن خورشید

(سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب)

گڈ گورننس کے ماڈل میں حکومت، سول سوسائٹی اور نجی شعبہ ملتے ہیں تو بہتری آتی ہے، حکومت اکیلے مسائل پر قابو نہیں پاسکتی۔ محکمہ خوراک صرف آئل اور چینی کو ڈیل کرتا تھا، اب فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ بنا دیا گیا جو خوراک سے متعلق تمام معاملات کو دیکھتا ہے۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں کنزیومر پروٹیکشن پر کام ہو رہا ہے، کسی دوسرے صوبے میں یہ شعبہ موجود نہیں ہے۔ 2024ء میں پرائس کنٹرول اینڈ اسینشل کموڈٹیز کا ایکٹ منظور ہوا، 2025ء میں اس میں ترمیم کی گئی اور پرائس کنٹرول کونسل کی تشکیل ہوئی جس میں حکومت کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی نمائندگی بھی موجود ہے۔ اس کا ایک اجلاس جنوری میں ہوا، اگلا اجلاس دو ماہ مکمل ہونے پر ہو گا۔ 39 اشیائے ضروریہ میں خوراک کے ساتھ ساتھ اینٹ، چارہ اور فرٹیلائزرز بھی شامل ہیں ۔ ماہ رمضان میں 16 اشیائے ضرورت جن میں آٹا، گھی، چینی، چاول، چنا، بیسن، کھجور، پھل، سبزیاں شامل ہیں، پر کام ہو رہا ہے۔ ان کی قیمت اور دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، اس وقت ان اشیاء کی قیمتیں کنٹرول میں ہیں۔ سٹرابیری اور خربوزے کی فصل نئی ہے، انار قندھار سے آتا ہے، افغانستان کی صورتحال کی وجہ سے اس کی کمی ہے لہٰذا اس طرح کے پھل مہنگے ہیں ، چند دنوں میں مارکیٹ میں سپلائی ہوگی تو قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ اس وقت آٹا اور چینی وافر مقدار میں سستے داموں مل رہی ہے۔ ملز مالکان کی طرف سے خود ہی رمضان بازاروں اور فیئر پرائس شاپس پر کم قیمت پر فراہمی جاری ہے۔ کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن رضاکارانہ طور پر کم قیمت پر اشیائے خورونوش فراہم کر رہی ہے، چکن فی کلو 15 جبکہ انڈے فی درجن 10 روپے کم قیمت پر دیے جا رہے ہیں۔ بڑے سٹورز میں عام آدمی کم جاتا ہے، غریب طبقہ بازاروں اور ٹھیلوں سے خریداری کرتا ہے اس لیے یہاں ہر چیز اس کی پہنچ میں لانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود بڑے سٹورز پر ڈی سی کاؤنٹرز بنائے گئے ہیں ، وہاں بھی سامان اور ریٹ کی چیکنگ کی جاتی ہے، خلاف ورزی پر لاکھوں روپے کے جرمانے اور سٹور سیل بھی کیے جاتے ہیں۔ ماہ رمضان کے پہلے ہفتے میں ناجائز منافع خوری پر ایک کروڑ روپے کے جرمانے، 680 گرفتاریاں اور 400 سے زائد ایف آرز درج ہوچکی ہیں۔ صوبے بھر میں روزانہ 1638 پرائس کنٹرول مجسٹریٹس فیلڈ میں جاتے ہیں، ان میں 227 مجسٹریٹس پیرا کے ہیں۔ حکومت پرائس کنٹرول کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی پر کوئی معافی نہیں ہے، ’تھرڈ پارٹی ویلی ڈیشن‘ بھی کی جارہی ہے۔ تھرڈ پارٹی مختلف بازاروں میں ریٹس چیک کرتی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری کو روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر پنجاب بھر میں 75 سہولت بازار قائم کیے گئے ہیں۔ ان بازاروں میں 5 کلومیٹر تک فری ہوم ڈیلوری، بزرگوں کیلئے میڈیکل چیک اپ وغیرہ کی مفت سہولیات بھی میسر ہیں۔ وزیراعلیٰ کے رمضان نگہبان پیکیج کے ذریعے مستحقین کو امدادی رقم دی جا رہی ہے جو صرف ماہ رمضان کیلئے ہے۔ اس پیکیج کے تحت 10 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں جو براہ راست اکاؤنٹ میں منتقل کیے جاتے ہیں، اس میں کسی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ پنجاب میں حکومت کی جانب سے421 ، فیصل آباد میں 90 جبکہ لاہور میں 53 رمضان دسترخوان لگائے گئے ہیں۔ مخیر حضرات ہر سال لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔ انہیں یہ مسئلہ رہتا تھا کہ کہاں دسترخوان لگائیں، انتظامات ان کیلئے ایک بڑا چیلنج تھا۔ اب حکومت نے دسترخوان لگا دیے ہیں، اس کے تمام انتظامات اور سہولیات حکومت کی ذمہ داری ۔ ان دسترخوانوں میں سول ڈیفنس تعینات ہے، فوڈسیفٹی، صحت، صفائی ستھرائی اور بہترین مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔ مخیر حضرات یہاں لوگوں کو کھانا دے رہے ہیں، ان کا جو پیسہ انتظامات پر خرچ ہوتا تھا، اب وہ لوگوں کے پیٹ میں جا رہا ہے، ان کے کھانے پر خرچ ہو رہا ہے۔ ہر جگہ تازہ کھانا بنتا ہے جس کا معیار بھی چیک کیا جاتا ہے اور حفظان صحت کے اصولوں کو اپناتے ہوئے، با عزت طریقے سے لوگوں کی روزہ کشائی بھی کروائی جاتی ہے۔حکومت اس وقت سہولت کار کا بہترین کردار ادا کر رہی ہے۔ پنجاب حکومت نے رمضان بچت فیسٹیول کا انعقاد کیا جس میں نجی شعبے نے لوگوں کو سستی اشیاء فراہم کی جبکہ حکومت نے انتظامات کیے۔ پرائس کنٹرول کا جدید میکنزم بنایا جا رہا ہے۔ منڈی کی سطح پہ انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہم منڈیوں کو ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں، کاہنہ منڈی میں اس پر کام جاری ہے، آڑھتیوں کو بھی تربیت دی جا رہی ہے، کامیابی کے بعد اس کا دائرہ کار صوبے کی تمام منڈیوں تک پھیلایا جائے گا۔ منڈیوں میں روزانہ کی بنیادپر آکشن کو بہتر بنایا جا رہا ہے، مارکیٹ کمیٹی کے افسران کو ’باڈی کیم‘ لگائے گئے ہیں تاکہ سارا عمل ریکارڈ ہوسکے۔

حافظ عارف

(صدر کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن)

مہنگائی پر ہر وقت چھوٹے دوکانداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ سبزی اور پھل کا سٹال لگانے والے محل نہیں بناتے، ان کے ساتھ ورکر بھی ہوتے ہیں، یہ اپنی ضروریات زندگی پورا کرنے کیلئے کام کرتے ہیں، یہ مہنگائی کا سبب نہیں ہیں۔ مہنگائی کا تعلق طلب اور رسد سے ہے۔ اس وقت آلو زیادہ ہے لہٰذا اس کی قیمت کم ہے، کسان نے 5 روپے فی کلو میں فروخت کیا جو مارکیٹ میں 35 روپے تک بک رہا ہے۔ مہنگائی کے حوالے سے حکومت سب سے آسان ہدف ہے، اسے تنقید کا نشانہ بنانا آسان ہے۔ مہنگائی جیسے مسائل کا تعلق ہمارے سماجی رویوں سے بھی ہے، حکومت اکیلئے اس کا خاتمہ نہیں کر سکتی، اس کیلئے من حیث القوم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاجر اور حکومت کے درمیان خلاء کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ موجودہ سیکرٹری نے ہمارے ساتھ بار بار میٹنگز کیں اور اس خلاء کو ختم کیا ہے جس کے بعد سے معاملات میں بہتری آ رہی ہے۔ ہماری ایسوسی ایشن نے اپنی مدد آپ کے تحت لاہور میں 127 فیئر پرائس شاپس قائم کی ہیں جہاں عوام کو سستے داموں اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں، اگر حکومت کا تعاون جاری رہا تو اس کا دائرہ کار پورے پنجاب میں پھیلایا جائے گا۔ پرائس کنٹرول ایکٹ حکومت کیلئے بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنرز کے درمیان اپنے اپنے ضلعے میں اشیائے خورونوش کے کم سے کم ریٹ مقرر کرنے کی دوڑ ہے جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، ایک ہی جنس کی قیمت میں الگ الگ شہروں میں 30،40 روپے کا فرق آجاتا ہے جو سمجھ سے باہر ہے۔ ہم نے حکومت کو ریٹ مقرر کرنے کے لیے باقاعدہ رپورٹ بنا کر سفارشات دی ہیں جس کے بعد پورے پنجاب میں ایک ریٹ لسٹ ہوگی۔ لاہور، فیصل آباد اور ملتان کے حساب سے دوسرے علاقوں کے فرق اور ٹرانسپورٹ چارجز کی بنیاد پر ریٹ کا فرق ڈیڑھ سے دو روپے ہوتا ہے، اس کی روشنی میں ریٹ مقرر کیے جائیں گے تاکہ کس کا نقصان نہ ہو۔ امید ہے جلد اس پر عملدرآمد ہوگا جس سے پرائسنگ کا میکنزم بہتر ہوجائے گا۔ زراعت اور لائیو سٹاک دونوں شعبوں کیلئے حکومت نے زیادہ قرض لیا لیکن دونوں میں ہی خرابیاں موجود ہیں، یہ شعبے خسارے میں ہیں، اگر مہنگائی پر قابو پانا ہے تو ان شعبوں پر توجہ دینا ہوگی۔

عبداللہ ملک

(نمائندہ سول سوسائٹی)

آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ ہماری 25 کروڑ سے زائد آبادی ہے جس میں 48 فیصد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزا رہے ہیں۔ ہمارے وسائل کم اور مسائل زیادہ ہے۔ ہمارے ہاں اوسط آمدن 82 ہزار روپے ہے۔ انڈسٹری بند ہو رہی ہے، ملازمتوں کے مواقع ختم ہو رہے ہیں اور ایک مشکل صورتحال ہے جس میں عام آدمی کی قوت خرید کم ہو گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے 1977ء میں مہنگائی پر قابو پانے کیلئے قانون سازی کی۔ آئین کے مطابق 38 اشیائے ضرورت کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کیلئے 1977ء اور 2024ء میں قوانین بنے۔ان قوانین کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ جرمانہ اور 3 ماہ تک قید کی سزا ہے مگر افسوس ہے کہ ہمارے ہاں قوانین پر عملدرآمد کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے قانون اپنا اثر کھو دیتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے قانون سازی اور عملدرآمد کے میکنزم میں ٹریڈ باڈیز، بزنس چیمبرز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو شامل نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک خلاء ہے جس کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح مارکیٹ کمیٹی جو ریٹ لسٹ بناتی ہے وہ حقیقت سے دور ہوتی ہے لہٰذا نظام کی بہتری اور مہنگائی پر قابو پانے کیلئے سٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا ہوگا، پرائس کنٹرول کونسل کو فعال بنانا ہوگا۔پہلے مجسٹریٹس کا نظام ہوتا تھا، ان کے پاس سزا کے اختیارات تھے، پھر یہ نظام ختم کر دیا گیا۔ اب اضافی اختیارات کے ساتھ نوٹیفکیشن کے ذریعے معاملات چلائے جا رہے ہیں، فل ٹائم مجسٹریٹس کا نظام موجود نہیں۔ آئین کے مطابق لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہ ریاست کا کام ہے کہ وہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اقدامات کرے، پیداوار بڑھائے، طلب اور رسد کو مینج کرے، قلت نہ ہونے دے۔ افسوس ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق نہیں کی جاتی، کسانوں کی فصلیں ضائع ہو جاتی ہیں، ہم نے زراعت کے حوالے سے زونز مقررنہیں کیں، زمین کی زرخیزی اور جنس کے حوالے سے موضوع ہونے کے حساب سے زونز بنائی جائیں۔ پہلی مرتبہ فیلڈ مارشل نے اس حوالے سے ریسرچ کروائی ہے، ہمیں دنیا کی تحقیق سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ دنیا میں ماہ رمضان جیسے مہینوں میں قیمتیں کم کی جاتی ہیں، ہمارے ہاں اسے سیزن کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ ایسے رویوں کا تعلق ہمارے معاشرے اور کلچر سے ہے۔ ماہ رمضان تو صبر اور ہمدردی کی تلقین کرتا ہے، ہمیں ایسا کمیونٹی کلچر بنانا ہے جو غلط رویوں کی حوصلہ شکنی کرے۔ ایک امر توجہ طلب ہے کہ بڑے سٹورز پراوور پرائسنگ ہوتی ہے، وہاں ڈی سی کاؤنٹر بنا دیا جاتا ہے جہاں سرکاری ریٹ پر ناقص اشیاء فراہم کی جاتی ہیں، ان کی کوئی پکڑ نہیں ہے جبکہ غریب کو بھاری جرمانے کر دیے جاتے ہیں، اس طرف توجہ دینا ہوگی۔ مہنگائی، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل سے چھٹکارہ پانے کیلئے حکومت، میڈیا، سول سوسائٹی، صارفین اور معاشرے کے دیگر سٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔  

Similar Posts