ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ملک میں تیل کمپنیوں نے پٹرول پمپس کو تیل کی فراہمی محدود کرنا شروع کر دی ہے، جس کے باعث ممکنہ قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ تیل کمپنیاں سپلائی کے آرڈر منسوخ کر رہی ہیں اور اپنی طرف سے تیل کی فراہمی کا کوٹا مقرر کر دیا ہے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہونے کا خطرہ ہے، اس لیے حکومت فوری مداخلت کرے اور پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں ایک ڈالر گیارہ سینٹ یا تقریباً 1.4 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی قیمت 82 ڈالر 53 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 79 سینٹ اضافے کے ساتھ 75 ڈالر 37 سینٹ فی بیرل ہو گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی پیداوار اور برآمدات متاثر ہو رہی ہیں، جس سے قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی اور امریکی افواج کی جانب سے ایران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے خطے میں توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے کیے ہیں۔ عراق، جو اوپیک کا دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس نے ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور برآمدی راستوں کی کمی کے باعث اپنی پیداوار میں تقریباً پندرہ لاکھ بیرل یومیہ کمی کر دی ہے۔
حکام کے مطابق اگر برآمدات بحال نہ ہوئیں تو عراق کو مزید پیداوار بند کرنا پڑ سکتی ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے چند ٹینکروں کو نشانہ بنایا جس کے بعد کئی روز تک جہاز رانی متاثر رہی۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ امریکی بحریہ ضرورت پڑنے پر ٹینکروں کو سیکیورٹی فراہم کر سکتی ہے، قیمتوں میں مزید تیزی وقتی طور پر محدود رہی۔
انہوں نے خلیج میں بحری تجارت کے لیے سیاسی خطرات کی انشورنس اور مالی ضمانتوں کی ہدایت بھی دی۔
اس کے باوجود جہاز مالکان اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف فوجی سکیورٹی اور انشورنس سے اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکتا۔
کئی ممالک اور کمپنیاں متبادل راستے اور توانائی کے نئے ذرائع تلاش کر رہی ہیں۔
بھارت اور انڈونیشیا نے دیگر سپلائرز سے رابطے شروع کر دیے ہیں جبکہ چین کی بعض ریفائنریاں عارضی بندش یا مرمت کے منصوبے آگے بڑھا رہی ہیں۔
سعودی آرامکو بھی کچھ برآمدات کو آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ احمر کے راستے منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکا میں گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر میں 56 لاکھ بیرل اضافہ رپورٹ ہوا ہے، جو اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بعد میں جاری کیے جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں بہتری نہ آئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان جیسے درآمدی ممالک پر براہ راست پڑیں گے۔
اس تناظر میں مقامی سطح پر سپلائی کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔