ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے بارے میں پھیلنے والی ہلاکت کی خبریں غلط ثابت ہو گئی ہیں۔ ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ زندہ اور محفوظ ہیں، جبکہ ان کی موت سے متعلق رپورٹس کی تردید کر دی گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس سے قبل یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ 69 سالہ سابق ایرانی صدر تہران کے مشرقی علاقے نرماک میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب ایران پر حملوں کے دوران ملک کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
(تاہم احمدی نژاد کے قریبی ذرائع نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس حملے میں محفوظ رہے اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ذرائع کے مطابق حملے کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر احمدی نژاد کو فوری طور پر ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
ان کے ایک مشیر کے مطابق حملے میں ایک ایسی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جو احمدی نژاد سے منسلک تھی، تاہم ان کی ذاتی رہائش گاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ مشیر نے بتایا کہ جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا وہ ان کی رہائش گاہ سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر واقع تھی۔ اس حملے میں احمدی نژاد کے تین محافظ ہلاک ہو گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق احمدی نژاد کے خاندان نے بھی ان کی ہلاکت سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خیریت سے ہیں۔
واضح رہے کہ محمود احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے اور اپنے دورِ حکومت میں عالمی سیاست میں خاصی شہرت حاصل کی۔ حالیہ جنگی صورتحال کے دوران ایران کی اہم شخصیات کے بارے میں مختلف افواہیں بھی سامنے آتی رہی ہیں، جن میں سے کئی بعد میں غلط ثابت ہوئیں۔