قرآن مجید انفاق فی سبیل اﷲ کو ایمان کی پہچان قرار دیتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اپنے مال اﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں نکلتی ہیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں اور اﷲ جس کے لیے چاہے اس سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ یہ آیت واضح کر دیتی ہے کہ انفاق کبھی گھاٹا نہیں بلکہ کئی گنا نفع ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف دے کر ضایع نہ کرو، یعنی خیرات اس وقت عبادت بنتی ہے جب اس میں عاجزی اور خلوص ہو۔ اﷲ تعالی فرماتا ہے کہ تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک وہ چیز اﷲ کی راہ میں خرچ نہ کرو جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ یہ آیت انسان کے نفس پر ضرب لگاتی اور بتاتی ہے کہ اصل انفاق وہ ہے جو دل پر بھاری ہو، قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ جو لوگ خوش حالی اور تنگی دونوں حال میں خرچ کرتے ہیں وہی متقی ہیں۔ یعنی انفاق حالات کا محتاج نہیں بلکہ یقین کا محتاج ہے، سورۃ حدید میں اﷲ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ کون ہے جو اﷲ کو قرض حسن دے تاکہ اﷲ اسے کئی گنا بڑھا دے، یہاں ربِ کائنات بندے سے مانگ نہیں رہا بلکہ اسے عزت دے رہا ہے کہ اس کے نام پر دیا جائے۔ ایک اور مقام پر فرمایا گیا کہ جو کچھ تم اﷲ کی راہ میں خرچ کرو گے اﷲ اسے جانتا ہے اور تم پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا۔ اور یہ اعلان بھی ہے کہ شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے جب کہ اﷲ تم سے مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے، گویا مال روکنا فتنہ ہے اور خرچ کرنا حفاظت ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ان آیات کو زندگی بنا کر دکھایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ مال کو کم نہیں کرتا بلکہ اﷲ اس میں برکت ڈال دیتا ہے۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ ہر دن دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ایک دعا کرتا ہے کہ اے اﷲ! خرچ کرنے والے کو اور عطا فرما، اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اﷲ! روکنے والے کے مال کو ہلاکت دے۔ رسول اﷲ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ بندہ کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال حالاں کہ اس کا مال تو وہی ہے جو اس نے کھا لیا، پہن لیا یا اﷲ کی راہ میں دے کر آگے بھیج دیا۔
آپ ﷺ نے بتایا کہ صدقہ گناہوں کو اس طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے دن صدقہ بندے کے لیے سایہ بنے گا۔ رمضان کے بارے میں حضرت ابن عباسؓ گواہی دیتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہوتے تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی سخاوت تیز ہوا سے بھی زیادہ ہوتی تھی۔ زکوٰۃ کے بارے میں آپ ﷺ نے سخت تنبیہ فرمائی کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کی جاتی وہ قیامت کے دن عذاب کا سبب بنے گا، جب کہ زکوٰۃ دینے والے کے مال کو پاکیزگی اور بڑھوتری عطا کی جاتی ہے۔ فطرہ کو آپ ﷺ نے روزوں کی لغزشوں کا کفارہ اور مسکینوں کے لیے عید کی خوشی قرار دیا۔ اور خیرات کو ہر مسلمان کے لیے ممکن عمل بتایا، چاہے وہ ایک کھجور کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔
صحابہ کرامؓ کی زندگی انفاق فی سبیل اﷲ کی زندہ تفسیر ہیں، غزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت عثمانؓ نے اونٹوں، سامان اور مال کے ڈھیر لگا دیے تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ آج کے بعد عثمانؓ کو کوئی عمل نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ حضرت ابوبکرؓ اپنا سارا مال لے آئے اور پوچھنے پر عرض کیا کہ گھر والوں کے لیے اﷲ تعالی اور اس کے رسول کریم ﷺ کو چھوڑ آیا ہوں۔ حضرت عمرؓ آدھا مال لے آئے مگر اس دن بھی سبقت حضرت ابوبکرؓ ہی لے گئے۔ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کا واقعہ مشہور ہے کہ انھوں نے مسلسل تین دن اپنا افطار مسکین، یتیم اور قیدی کو دے دیا اور خود پانی پر گزارا کیا، جس پر قرآن میں ان کی تعریف نازل ہوئی کہ وہ کہتے ہیں ہم تمھیں صرف اﷲ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر، یہ وہ معیار ہے جو بتاتا ہے کہ انفاق کا اصل حسن اخلاص میں ہے، دکھاوے میں نہیں۔
قرآن و حدیث ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ مال کا فتنہ بہت سخت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر امت کا ایک فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے، جب مال دل میں بیٹھ جائے تو انسان حق روک لیتا ہے، زکوٰۃ کو بوجھ سمجھتا ہے، خیرات میں حساب کتاب کرنے لگتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان کم زور پڑنے لگتا ہے، اسی لیے اسلام نے زکوٰۃ کو فرض کیا تاکہ معاشرہ پاک رہے، دل صاف رہیں اور دولت چند ہاتھوں میں قید نہ ہو۔ قرآن اعلان کرتا ہے کہ تاکہ مال تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے، فتنہ یہی ہے کہ ہم جمع کریں اور دوسروں کو بھول جائیں، اور نجات یہی ہے کہ ہم دیں اور اﷲ پر بھروسا کریں۔
آج اگر ہم رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، فطرہ حق دار تک پہنچاتے ہیں، خفیہ اور اعلانیہ خیرات سے کسی کی بھوک مٹاتے ہیں، کسی بیٹی کے جہیز، کسی مریض کے علاج، کسی مجبور کے کرائے یا کسی بچے کی فیس میں آسانی بن جاتے ہیں تو دراصل ہم اپنے ہی لیے آخرت کا سامان جمع کر رہے ہوتے ہیں، کیوں کہ اﷲ کا وعدہ سچا ہے کہ جو کچھ تم اﷲ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا لوٹا دیا جائے گا، اور یہی وہ تجارت ہے جس میں کبھی خسارہ نہیں ہوتا۔
رمضان کے آخری دنوں میں جب دل حساب کرنے لگے تو ذرا یہ بھی دیکھ لیجیے کہ ہم نے کتنا اپنے رب کے نام پر دیا، شاید یہی چند لمحے، یہی چند روپے، یہی چند آنسو ہمارے اور جہنم کے درمیان حائل ہو جائیں، کیوں کہ اصل کام یابی یہی ہے کہ بندہ خالی ہاتھ آئے اور خالی ہاتھ نہ لوٹے، بلکہ دے کر لوٹے، جھک کر لوٹے، اور رب کی رضا لے کر لوٹے۔