ارشادِ باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ’’یتیم کا مال ناحق کھانا کبیرہ گناہ اور سخت حرام ہے۔‘‘ (الدھر)
افسوس! لوگ اس کی بھی پروا نہیں کرتے۔ عموماً یتیم بچے اپنے تایا، چچا وغیرہ کے ظلم و ستم کا شکار ہوتے ہیں، انھیں اِس حوالے سے غور کرنا چاہیے۔
دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے، مفہوم: ’’جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں داخل کیے جائیں گے اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے۔‘‘ (النساء)
اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے فرمان کا مفہوم ہے: ’’اور یہ آپ سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، آپ کہہ دیجیے کہ ان کی خیر خواہی کرنا بہتر ہے اور اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمھارے بھائی ہیں، اﷲ تعالیٰ بد نیّت اور نیک نیّت ہر ایک کو خوب جانتا ہے، اوراگر اﷲ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اﷲ غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ)
جس کے زیر سایہ کوئی یتیم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس یتیم کی اچھی پرورش کرے۔ اَحادیث مبارکہ میں یتیم کی پرورش اور اس سے حسن سلوک کے بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔
حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے، امامْ الانبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’جس نے مسلمانوں کے کسی یتیم بچے کے کھانے پینے کی ذمے داری لی، اﷲ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘
رسول اکرم ﷺ نے تو یتیم کی کفالت کرنے کو جنت میں اپنے ساتھ ہونے کی بشارت سے نوازا ہے کہ وہ جنت میں آپ ﷺ کے ساتھ ہوگا۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ وہ یتیم اس کا رشتے دار ہو یا غیر، جنت میں اس طرح ہوں گے، جیسے یہ دو انگلیاں۔‘‘ (مسلم شریف)
امام مالکؒ نے اس حوالے سے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔ بچہ اپنی ہر ضرورت کے لیے ماں باپ کا محتاج ہوتا ہے۔ اگر وہ ماں باپ کے سہارے سے محروم ہو جائے تو پھر اس سے زیادہ بے بس و بے کس شاید ہی اور کوئی ہو۔ چناں چہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی یتیم کی ذمے داری اٹھاتا اور اُس کی کفالت کرتا ہے، وہ اﷲ کی نظر میں اتنا پسندیدہ عمل کرتا ہے کہ اسے جنت میں میرا ساتھ اس طرح میسر ہوگا جیسے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔ (مسند احمد)
رسولِ اکرم ﷺ کے ارشادِ گرامی کا مفہوم ہے: ’’مسلمانوں کا بہترین گھر وہ ہے، جس میں کوئی یتیم (زیرِ کفالت) ہو، جس کے ساتھ اچّھا سلوک کیا جاتا ہو، اور مسلمانوں کا بدترین گھرانہ وہ ہے، جس میں کوئی یتیم (زیرِ کفالت) ہو، مگر اُس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف)
ہمارے نبی کریم ﷺ کو عام بچوں سے بھی پیار تھا لیکن یتیموں کے ساتھ جو محبت آپ کو تھی اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ آپؐ نے خود دور یتیمی دیکھا تھا اس لیے آپ ﷺ یتیم کو زیادہ توجہ دیتے اور دلاتے تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یتیم بچوں کے بے سہارا ہونے کی وجہ سے دین اسلام ان کی محبت، دیکھ بھال اور انھیں خوش رکھنے کی زیادہ تاکید کرتا ہے۔