خلیجی ممالک کو فراہم کیے گئے امریکی جدید میزائل دفاعی نظام، جنہیں خطے کے لیے ناقابلِ تسخیر ڈھال قرار دیا جاتا تھا، ایران کے جوابی حملوں کے دوران بری طرح ناکام ہوتے دکھائی دیے جس کے بعد ان نظاموں کی افادیت پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
امریکا کی جانب سے خلیجی ممالک کو دی جانے والی سیکیورٹی ضمانت کا بنیادی ستون اس کے جدید میزائل دفاعی نظام رہے ہیں جن میں خصوصاً لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس اور پیٹریاٹ پیک تھری بیٹریاں شامل ہیں۔
ان نظاموں کو بیلسٹک میزائلوں کو آخری مرحلے میں تباہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ایک مکمل دفاعی حل کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ کم فاصلے کے خطرات اور ڈرونز سے نمٹنے کے لیے پیٹریاٹ سسٹمز کو شامل کیا گیا۔
امریکا میں دفاعی کمپنیاں حکومتی ترجیحات پر اثرانداز ہوتی ہیں، جس کے باعث ان نظاموں کو عالمی معیار کے طور پر فروخت کیا گیا۔ خلیجی ممالک نے گزشتہ برسوں کے دوران ان سسٹمز پر دسیوں ارب ڈالر خرچ کیے، اس یقین کے ساتھ کہ یہ نظام ٹینکر وار کے دور سے موجود میزائل خطرات کو مکمل طور پر ختم کر دیں گے۔
مئی 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے امریکی تاریخ کے سب سے بڑے دفاعی تعاون معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت سعودی عرب کو 142 ارب ڈالر کا اسلحہ پیکج فراہم کیا گیا۔ اس پیکج میں تھاڈ سسٹمز، پیٹریاٹ اپ گریڈز، جدید میزائل، فضائی ہتھیار، مسلح ڈرونز اور بڑی مقدار میں اسلحہ شامل تھا۔
اس معاہدے کا مقصد سعودی فوج کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور ایران اور اس کے اتحادیوں کے خطرات سے نمٹنا تھا۔
تاہم یہ دفاعی نظام صرف نو ماہ بعد ایک بڑے امتحان سے دوچار ہوئے، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے اور ایران نے فوری جوابی کارروائی کی۔ وہی خطرہ جس کے خلاف خلیجی ممالک نے اربوں ڈالر خرچ کیے تھے حقیقت بن کر سامنے آیا مگر امریکی دفاعی ڈھال بری طرح ناکام ہو گئی۔
خلیجی ممالک اس صورتحال کا اندازہ پہلے ہی لگا چکے تھے۔ مارچ 2023 میں سعودی عرب اور ایران نے چین کی ثالثی میں بیجنگ میں سفارتی تعلقات بحال کیے، جس کے تحت سفارتخانے دوبارہ کھولے گئے اور 2001 کے سیکیورٹی معاہدے کو فعال کیا گیا۔
امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز کے مطابق یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے اپنی سیکیورٹی پالیسی میں تنوع لانے اور امریکا پر مکمل انحصار کم کرنے کی علامت تھا۔
رواں برس کے آغاز میں جب امریکی حملوں کی تیاریاں تیز ہوئیں تو خلیجی ممالک نے ایک بار پھر سفارتی راستہ اختیار کیا۔ سعودی عرب نے واضح طور پر امریکا کو اپنی فضائی حدود اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا، جبکہ دیگر خلیجی تعاون کونسل سے منسلک ممالک نے بھی ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر ایسی اجازت نہیں دی۔
ایران کے جوابی حملے کے دوران 400 سے زائد بیلسٹک میزائل اور تقریباً 1000 ڈرونز گلف کوآپریشن کونسل کے تمام چھ ممالک بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات کی جانب داغے گئے، جنہوں نے شہری علاقوں، توانائی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی جانب سے جاری سیٹلائٹ تصاویر میں انکشاف ہوا کہ تھاڈ سسٹمز کے اہم اے این/ٹی پی وائی-2 ریڈارز، جو پورے نظام کی آنکھ سمجھے جاتے ہیں، اردن، سعودی عرب اور یو اے ای میں براہِ راست نشانہ بنے۔
سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس میں ریڈار شیلٹر مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جبکہ اردن کے موافق السلتی ایئر بیس اور یو اے ای کے الرویس کے قریب تھاڈ بیٹری کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
پیٹریاٹ سسٹمز بھی ایرانی حملوں کی شدت کا مقابلہ نہ کر سکے۔ اگرچہ کچھ میزائلوں کو روکا گیا مگر ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کی بڑی تعداد نے ان سسٹمز کو شدید دباؤ میں ڈال دیا تھا۔
سن 1991 کی خلیجی جنگ سے لے کر اب تک پیٹریاٹ سسٹمز کی محدود صلاحیتیں سامنے آتی رہی ہیں، اور اس بار یہ کمزوریاں مزید واضح ہو گئیں ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے بھی مارچ کے وسط کے بعد اپنے دفاعی کامیابی کے اعداد و شمار جاری کرنا بند کر دیے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعتراف کیا کہ ایران ہر ماہ 100 سے زائد میزائل تیار کر رہا ہے، جبکہ امریکا صرف 6 یا 7 انٹرسیپٹرز تیار کر پاتا ہے۔
اس کمی کو پورا کرنے کے لیے امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے جنوبی کوریا سے تھاڈ بیٹریاں مشرق وسطیٰ منتقل کرنا شروع کر دیں، جس پر جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ نے اعتراض بھی کیا تاہم وہ اس اقدام کو روک نہ سکے۔ اس منتقلی سے شمالی کوریا کے خلاف دفاعی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک محاذ سے وسائل ہٹا کر دوسرے محاذ پر منتقل کرنا امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے، مگر اس سے دیگر علاقوں میں سیکیورٹی خلا پیدا ہو سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اربوں ڈالر کے اخراجات کے باوجود ایران کی میزائل صلاحیت اور امریکی دفاعی نظام کی محدود پیداوار نے انہیں شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
جسے ناقابلِ تسخیر دفاعی ڈھال قرار دیا گیا تھا، وہ اب کمزور ثابت ہو رہی ہے، اور تھاڈ جیسے مہنگے نظام کی کارکردگی نے اس کی افادیت پر بڑے سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔