شرح سود درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور آٹو فنانس میں اضافے کے نتیجے میں فروری 2025 میں گاڑیوں کی فروخت میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ 12 ہزار سے زائد گاڑیاں فروخت کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق شرح سود اور درآمدی ڈیوٹی میں کمی ہوئی ہے، گاڑیوں کی خریداری کےلئے قرضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، فروری میں 12 ہزار 84 گاڑیاں فرخت ہوئیں۔
پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق رواں مالی سال آٹھ ماہ میں 89 ہزار 770 گاڑیاں فروخت ہوئیں۔
گاڑیوں کے ڈیلر فہد نظیر کا کہنا ہے بلند شرح سود کی وجہ سے گاڑیوں کی مارکیٹ زیرو ہوگئی تھی۔
ایک سے زیادہ کریڈٹ کارڈز رکھنے کے باوجود قرض کے جال سے کیسے بچیں؟
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق دآمدی گاڑیوں پر ٹیکس کا مقصد مقامی آٹو انڈسٹری کی سپورٹ ہے، جبکہ قرضوں پر بلند شرح سود کی وجہ سے لوگوں نے اپنا سرمایہ بینکوں میں رکھنے کو ترجیح دی۔
آٹو ڈیلرز کا کہنا ہے اب ڈیوٹی میں کمی کے بعد درآمدی اور مقامی دونوں گاڑیوں کی فروخت بڑھ رہی ہے۔
موڈیز کا پاکستانی بینکوں کی اچھی کارکردگی کا اعتراف، ریٹنگ مستحکم سے مثبت کرنے کا اعلان
ذرائع کا کہنا ہے کہ آٹوسیکٹر پرامید ہے کہ کم شرح سودبڑھتی ہوئی ترسیلات زر، مستحکم شرح تبادلہ گرتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے جون تک کاروں کی مجموعی فروخت تیز رہے گی۔