پاکستان کے ابھرتے اسٹار عرفات منہاس کا کیریئر کے آغاز میں ہی بڑا کارنامہ

پاکستان کے ابھرتے ہوئے 21 سالہ اسٹار آل راؤنڈر عرفات منہاس نے کیریئر کے آغاز میں ہی بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا اور انگلینڈ کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں تاریخ رقم کردی۔ وہ ایک ہی میچ میں نصف سنچری بنانے اور 5 یا اس سے زیادہ وکٹیں لینے والے پاکستان کے تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

منگل کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سہ ملکی ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان نے انگلینڈ کو 87 رنز سے شکست دے دی۔

قومی ٹیم کی 87 رنز سے کامیابی میں نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس نے نمایاں کردار ادا کیا، جنہوں نے مشکل صورت حال میں بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو سنبھالا اور اپنے پانچویں ون ڈے انٹرنیشنل میں انہوں نے کیریئر کی پہلی نصف سنچری بنائی۔ انہیں میچ میں عمدہ کارکردگی پر پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔

پاکستانی ٹیم کی اننگز ایک موقع پر شدید مشکلات کا شکار تھی اور 27.3 اوورز میں 133 رنز پر 5 وکٹیں گر چکی تھیں۔ ایسے میں عرفات منہاس نے حسن نواز کے ساتھ مل کر چھٹی وکٹ کے لیے 78 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ حسن نواز نے 74 گیندوں پر 79 رنز بنائے جب کہ عرفات منہاس نے 58 گیندوں پر 59 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 9 چوکے شامل تھے۔

اس کے بعد عرفات منہاس نے فہیم اشرف کے ساتھ بھی عمدہ شراکت قائم کی۔ دونوں نے ساتویں وکٹ کے لیے 72 رنز جوڑے جب کہ فہیم اشرف نے تیز رفتار 39 رنز بنائے۔ ان شراکتوں کی بدولت پاکستان نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 302 رنز بنائے۔

303 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی ٹیم ایک مرحلے پر مضبوط پوزیشن میں تھی اور 18 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 117 رنز بنا چکی تھی تاہم عرفات منہاس نے اپنی عمدہ اسپن بولنگ سے انگلش بیٹنگ لائن کو مشکلات سے دوچار کرتے ہوئے میچ کا رخ بدل دیا۔

بائیں ہاتھ سے اسپن بولنگ کرنے والے عرفات منہاس نے 8.4 اوورز میں 40 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے کیریئر کی بہترین بولنگ ہے۔

انگلینڈ نے آخری 9 وکٹیں صرف 98 رنز کے اضافے پر گنوائیں اور پوری ٹیم 215 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ اس طرح پاکستان نے میچ 87 رنز سے جیت لیا۔

پانچ ون ڈے میچز میں دوسری مرتبہ پانچ وکٹیں

عرفات منہاس نے اپنے مختصر ون ڈے کیریئر میں دوسری مرتبہ ایک میچ میں 5 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے مئی میں آسٹریلیا کے خلاف اپنے ون ڈے ڈیبیو پر 32 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اس کارکردگی کے ساتھ وہ ون ڈے ڈیبیو پر پانچ وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی مرد کرکٹر بنے تھے۔

اس کارنامے کے ساتھ 21 سالہ آل راؤنڈر تاریخ کے صرف تیسرے ایسے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں، جنہوں نے ایک ہی ون ڈے میچ میں نصف سنچری اسکور کرنے کے ساتھ ساتھ پانچ (یا اس سے زیادہ) وکٹیں بھی حاصل کی ہیں۔

اس سے قبل مایہ ناز آل راؤنڈر عبدالرزاق نے سنہ 2000 میں بھارت کے خلاف 70 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلی اور 5 وکٹیں حاصل کیں۔ جس کے بعد پاکستان کے سابق آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے یہ کارنامہ 3 بار انجام دیا۔ انہوں نے سنہ 2000 میں انگلینڈ کے خلاف 61 رنز بنائے اور 5 وکٹیں حاصل کیں۔

اس کے بعد پھر 2011 میں سری لنکا کے خلاف 75 رنز بنائے اور 5 وکٹیں حاصل کیں اور 2013 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 76 رنز کی باری کھیل کر صرف 12 رنز کے عوض 7 وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان کے لیے انگلینڈ کے خلاف یہ فتح سہ ملکی سیریز میں اہم پیش رفت ہے تاہم میچ کی خاص بات 21 سالہ عرفات منہاس کی وہ کارکردگی رہی جس نے مشکل وقت میں ٹیم کو سہارا دیا۔ وہ صرف پانچ ون ڈے میچز میں دو مرتبہ پانچ وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔

Related posts